امریکی محکمہ انصاف کی بڑی کارروائی: 41 ملین ڈالر اسٹاک فراڈ میں چار دوہری شہریت رکھنے والے پاکستانیوں پر فردِ جرم عائد

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی محکمۂ انصاف (DoJ) نے چار دوہری شہریت رکھنے والے پاکستانی شہریوں پر 41 ملین ڈالر کے بڑے مالی فراڈ کیس میں فردِ جرم عائد کر دی ہے۔ عدالت میں جمع کرائے گئے دستاویزات کے مطابق یہ مبینہ فراڈ 2020 سے 2024 کے دوران کیا گیا۔
ملزمان میں تین بھائی سعد شوکت، ارحم شوکت اور شہویز شوکت شامل ہیں، جبکہ چوتھا ملزم دانیال خان ہے جو برطانیہ اور پاکستان کی دوہری شہریت رکھتا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق ملزمان پر انسائیڈر ٹریڈنگ اور اسٹاک مارکیٹ میں ہیرا پھیری کے الزامات عائد کیے گئے ہیں، جن کا تعلق امریکی ہیلتھ کیئر اور بایوٹیکنالوجی کمپنیوں کے حصص سے ہے۔
استغاثہ کے مطابق ملزمان نے جعلی پریس ریلیزز، گمراہ کن بیانات اور جھوٹے کلینیکل ڈیٹا کے ذریعے متعلقہ کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتیں مصنوعی طور پر بڑھائیں اور بعد ازاں مہنگے داموں حصص فروخت کر کے بھاری منافع حاصل کیا۔
امریکی محکمۂ انصاف کا کہنا ہے کہ اگر شوکت برادران پر عائد تمام الزامات ثابت ہو جاتے ہیں تو سعد اور ارحم شوکت کو نظریاتی طور پر 245، 245 سال تک قید کی سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جو امریکی قوانین کے تحت ایک غیر معمولی سزا تصور کی جاتی ہے۔
قانونی ماہرین کے مطابق یہ کیس اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ بین الاقوامی سطح پر کیے جانے والے مالی جرائم ڈیجیٹل شواہد چھوڑتے ہیں اور امریکی قانون ایسے جرائم پر انتہائی سخت کارروائی کرتا ہے۔



