ایران پر حملے کو امریکا اور اسرائیل کا مذہبی جنگ کے طور پر پیش کرنے پر عالمی میڈیا میں نئی بحث چھیڑ دی

واشنگٹن(جانوڈاٹ پی کے)ایران پر حملے کو امریکا اور  اسرائیل مذہبی جنگ کے طور   پر پیش کر  رہے ہیں، صرف ٹرمپ ہی ایونجلیک مسیحیوں سے غیر معمولی دعا نہیں کروا رہے بلکہ نیتن یاہو  بھی غزہ جنگ سے اب تک مسلسل مذہبی ٹچ دے  رہے ہیں ، ماہرین کہتے ہیں  جب  جنگ کو  مقدس اصطلاحات میں بیان کیا جائے تو  سیاسی سمجھوتہ  مشکل  ہوجاتا ہے۔

امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملے نے عالمی سیاست میں نئی آگ بھڑکا دی ہے۔ حیران کن طور پر دونوں ممالک نے اس کارروائی کو مذہبی اور بائبل کے تناظر میں پیش کیا ہے جس سے عالمی سطح پر بحث چھڑ گئی ہے۔

عالمی میڈیا اس پر شدید تنقید کررہا ہے کہ  انتہائی مذہبی بیان بازی نے فوجی فیصلوں کے پس منظر میں غیر ضروری مذہبی رنگ بھردیا ہے، جس پر تحفظات بڑھ رہے ہیں۔

سیاستدانوں کا جنگ کے دوران مذہبی زبان استعمال کرنا نیا نہیں ہے۔ نائن الیون حملوں کے بعد صدر جارج ڈبلیو بش نے آنے والی لڑائی کو صلیبی جنگ کہا تھا لیکن بڑھتی دشواریوں اور دباؤ کے بعد وائٹ ہاؤس نے اس بیان سے دوری اختیار کرلی کیونکہ اسے  یوں سمجھا گیا کہ امریکا اسلام کے خلاف مذہبی جنگ کر رہا ہے۔

اب امریکی فوج میں دعوے سامنے آئے ہیں کہ صدر ٹرمپ کو روحانی طور پر منتخب کیا گیا ہے اور فوجیوں کو مذہبی تقریبات اور دعاؤں کے ذریعے حوصلہ دیا جا رہا ہے۔

نیتن یاہو نے بھی بائبل میں دشمن عمالیق کا ذکر کرکے عوام میں "ہم بمقابلہ وہ” کے جذبات کو مضبوط کیا ہے۔

امریکی میڈیا پر بھی تضادات اور دوہرے معیار جیسے موضوعات پر بحث جاری ہے، ماہرین کہتے ہیں کہ مذہبی بیانیہ عوام کی حمایت جیت سکتا ہے لیکن سیاسی سمجھوتے اور امن کے امکانات کو محدود بھی کر دیتا ہے۔

مزید خبریں

Back to top button