ایران اور امریکا کے مذاکرات ہفتے کو ہونگے، چین، سعودی عرب، ترکیہ، قطر اور مصر کی بھی اسلام آباد آمد متوقع

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے)ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ جنگ بندی سے متعلق اہم اور اعلیٰ سطحی مذاکرات اسلام آباد میں ہوں گے۔

تفصیلات کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والے ممکنہ مذاکرات کو خطے میں کشیدگی کے خاتمے کے لیے ایک بڑی سفارتی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق مذاکرات میں نہ صرف فریقین بلکہ اہم عالمی و علاقائی طاقتیں بھی شریک ہو سکتی ہیں۔

ترجمان وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکی صدر نے تین رکنی وفد اسلام آباد بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے جس کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کریں گے جبکہ وفد میں سینئر سفارتی شخصیت اسٹیو وٹکوف اور سابق صدارتی مشیر جیرڈ کشنر بھی شامل ہوں گے۔

امریکی شرکت کو مذاکرات کی اہمیت اور سنجیدگی کا مظہر قرار دیا جا رہا ہے۔ ایران کی نمائندگی ایران کی جانب سے اعلیٰ سطحی سفارتی وفد کی شرکت متوقع ہے، جس میں وزیر خارجہ اورسیکیورٹی اداروں کے سینئر حکام شامل ہو سکتے ہیں۔

ایرانی وفد کا فوکس پابندیوں، علاقائی سیکیورٹی اور جنگ بندی کے قابلِ عمل فریم ورک پر ہوگا میزبان ملک پاکستان کی جانب سے وزیراعظم شہباز شریف قیادت کریں گے جبکہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار فیلڈ مارشل سیدعاصم منیر اور اعلیٰ سفارتی حکام بھی شریک ہوں گے۔

پاکستان اس عمل میں سہولت کار کا کردار ادا کر رہا ہے اور فریقین کے درمیان اعتماد سازی کی کوششیں جاری ہیں۔ سفارتی ذرائع کے مطابق کئی اہم ممالک بطور ثالث یا مبصر شرکت کر سکتے ہیں، جن میں چین، سعودی عرب، ترکیہ، قطر اور مصر شامل ہیں جن کی شمولیت مذاکرات کو مزید مؤثر اور متوازن بنانے میں مددگار بناسکتی ہے۔

مذاکرات میں ممکنہ طور پر اقوام متحدہ کے نمائندے اور دیگر عالمی سفارتی مبصرین بھی شرکت کریں گے تاکہ مذاکراتی عمل کی نگرانی اور معاونت کی جا سکے۔

ذرائع کے مطابق مذاکرات میں فوری جنگ بندی کا لائحہ عمل کشیدگی میں کمی اور اعتماد سازی اقدامات علاقائی سلامتی کی صورتحال انسانی بحران کے تدارک کے اقدامات اور امریکہ اور ایران کی جانب سے مجوزہ مطالبات کا ڈرافٹ پیش کیا جائے گا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں ہونے والے یہ مذاکرات مشرق وسطیٰ کی صورتحال میں اہم موڑ ثابت ہو سکتے ہیں، اگرفریقین کسی مشترکہ نکات پر متفق ہو گئے تو یہ نہ صرف ایران–امریکا تعلقات میں بہتری کی جانب پیش رفت ہوگی بلکہ پورے خطے میں امن و استحکام کے امکانات بھی روشن ہو جائیں گے۔

تاحال شرکت کرنے والے وفود کی حتمی فہرست سامنے نہیں آئی، تاہم اعلیٰ سطحی شرکت کے واضح اشارے اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ عالمی برادری اس پیش رفت کو انتہائی سنجیدگی سے لے رہی ہے۔

مزید خبریں

Back to top button