بھارتی شہری نکھل گپتا نے امریکی عدالت میں سکھ رہنما کے قتل کی سازش کے تمام الزامات قبول کر لیے

واشنگٹن(جانوڈاٹ پی کے)بھارتی شہری نکھل گپتا نے مین ہیٹن کی وفاقی عدالت میں سکھ علیحدگی پسند رہنما کو قتل کرنے کی سازش پر اپنے خلاف عائد تمام الزامات قبول کرلیے۔

امریکی استغاثہ کے مطابق نکھل گپتا پر الزام تھا کہ انھوں نے نیویارک میں مقیم سکھ رہنما گرپتونت سنگھ پنوں کو قتل کرنے کی سازش تیار کی تھے۔

پراسیکیوٹرز کا کہنا تھا کہ سکھ رہنما کے قتل کی ہدایات بھارتی حکومت کے ایک اہم اہلکار کی جانب سے دی گئی تھیں۔

عدالتی دستاویزات کے مطابق نکھل گپتا پر کرائے کے قاتل کے ذریعے قتل کی کوشش اور سازش کے دو الزامات عائد تھے۔

جس وقت یہ الزام سامنے آیا تھا، مودی سرکار نے ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے بے بنیاد قرار دیا تھا۔

تاہم اب گرفتار بھارتی شہری نے وفاقی عدالت میں پیش ہو کر تینوں الزامات قتل کی سازش تیار کرنا، کرائے کے قاتل سے ساز باز اور منی لانڈرنگ کا اعتراف کرلیا۔

استغاثہ کا اندازہ ہے کہ سنگین جرائم کے اعتراف پر وفاقی قوانین کے تحت بھارتی شہری نکھل گپتا کو تقریباً 40 برس تک قید کی سزا ہوسکتی ہے۔

یاد رہے کہ نکھل گپتا کو 2024 میں امریکا کے حوالے کیا گیا تھا تاکہ وہ اس مقدمے کا سامنا کریں۔

امریکی حکام کے مطابق یہ کیس عالمی سطح پر سکھ برادری کے خلاف مبینہ حملوں اور دھمکیوں کے ایک وسیع تر پس منظر سے جڑا ہوا ہے اور جس پر امریکا نے گہری تشویش کا بھی اظہار کیا تھا۔

یہ معاملہ امریکا اور بھارت کے درمیان سفارتی سطح پر بھی حساسیت اختیار کر چکا ہے۔ مزید تفصیلات اور عدالتی کارروائی سے متعلق پیش رفت آئندہ دنوں میں متوقع ہے۔

خیال رہے کہ قتل کی سازش بروقت پکڑے جانے کے باعث زندہ بچ جانے والے سکھ رہنما گرپتونت سنگھ پنوں نیویارک میں قائم تنظیم سکھس فار جسٹس کے رہنما ہیں۔

وہ  امریکی شہری ہیں اور بھارتی ریاست پنجاب کی آزادی کے حامی سمجھے جاتے ہیں جب کہ طویل عرصے سے خالصتان تحریک سے متعلق سرگرمیوں میں نمایاں کردار بھی ادا کر رہے ہیں۔

بلوم برگ کی ایک رپورٹ کے مطابق نکھل گپتا کو جون 2023 میں چیک جمہوریہ سے گرفتار کرکے امریکا کے حوالے کیا گیا تھا۔ پھر نیویارک میں اس پر مقدمہ چلایا گیا۔

خیال رہے کہ نکھل گپتا ایک بزنس مین ہے جو کئی ممالک میں فضائی سفر کرتا رہتا ہے اور اسے بھارتی انٹیلیجنس آفیسر آکاش یادیو نے سکھ رہنما کو قتل کرنے کا ٹاسک دیا تھا۔

تاجر نکھل گپتا پر بھارت میں دھوکہ دہی سمیت متعدد مقدمات تھے  بھارتی انٹیلی جنس ادارے را سے منسلک آفیسر آکاش یادیو نے ان مقدمات سے بری کرانے کی یقین دہانی کرائی تھی۔

تاہم آکاش یادیو نے نکھل سے کہا تھا تم کو امریکا میں ایک سکھ رہنما کو قتل کرنے کی منصوبہ بندی کے لیے میری ہدایات پر عمل کرنا ہوگا۔

بھارتی انٹیلی جنس آفیسر کی ہدایت پر نکھل نے امریکا میں کرائے کے قاتل کو خریدا اور سکھ رہنما کی معلومات فراہم کیں تاہم امریکی انٹیلی جنس کو خبر ہوگئی اور یہ سازش پکڑی گئی۔

اس طرح امریکی انٹیلی جنس کی بروقت کارروائی کے باعث سکھ رہنما محفوظ رہے تھے۔

بلومبرگ کے بقول عدالت دستاویزات سے معلوم ہوتا ہے کہ نکھل گپتا اور یادو نے نیپال اور پاکستان میں ایک اور ہدف کو قتل کرنے کی منصوبہ بندی بھی کی تھی۔

نکھل گپتا اور یادو کا تعلق 2023 میں کینیڈا میں خالصتان کے سرگرم کارکن ہردیپ سنگھ نجر کے قتل سے بھی ہے۔

بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق گروپت ونت سنگھ اور ہردیپ سنگھ نجر کینیڈا اور امریکا میں خالصتان تحریک کے ساتھی اور نمائندہ چہرے تھے۔

امریکی استغاثہ نے جو شواہد عدالت میں جمع کرائے ہیں ان میں نکھل گپتا اور یادو کے درمیان سیکڑوں واٹس ایپ پیغامات اور ای میلز شامل ہیں۔

بلومبرگ کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ملزمان کے ان موبائل پیغامات میں ہدف، ہتھیاروں کی فراہمی اور منصوبہ بندی پر بات چیت ہوئی۔

بلومبرگ کے مطابق بھارت نے بھی اعتراف کیا تھا کہ اس کے ایجنٹ ممکنہ طور پر امریکا میں قتل کی کوشش کی سازش میں ملوث ہو سکتے ہیں اور ایک فرد کو را سے برطرف کیا گیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مودی سرکار کی اس دراندازی اور دہشت گرد کارروائیوں سے پاکستان، نیپال، امریکا اور کینیڈا کے ساتھ بھارت کے تعلقات کشیدہ ہوتے جا رہے ہیں اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں پر بھی سوالات اٹھا رہے ہیں۔

مزید خبریں

Back to top button