امریکی آرمی چیف سمیت کئی جرنیلوں کی برطرفی کے پیچھے ایپسٹین فائلز کا شرمناک سچ

واشنگٹن/اسلام آباد(خصوصی رپورٹ /جانو ڈاٹ پی کے)امریکہ سے آنے والی حالیہ خبروں نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک حیرت انگیز قدم اٹھاتے ہوئے امریکی بری فوج کے سربراہ جنرل رینڈی جارج سمیت تین اہم جرنیلوں اور تقریباً 12 اعلیٰ فوجی افسران کو زبردستی ریٹائر کر کے گھر بھیج دیا ہے۔ دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ برطرفیاں اس وقت کی گئی ہیں جب پینٹاگون اور وائٹ ہاؤس کے درمیان ایران جنگ کے طریقہ کار پر شدید اختلافات پیدا ہو چکے ہیں۔ ان برطرفیوں کے پیچھے مبینہ طور پر ‘ایپسٹین فائلز’ کا ہاتھ بتایا جا رہا ہے، جس میں ٹرمپ کی بعض ‘شرمناک’ ویڈیوز اور فائلز کے ذریعے صیہونی لابی ان پر دباؤ ڈال رہی ہے تاکہ وہ گریٹر اسرائیل کے ایجنڈے پر عمل کرتے ہوئے ایران پر اندھا دھند حملے کریں۔ ٹرمپ نے پیشہ ور جرنیلوں کو بائی پاس کر کے 15ویں نمبر کے جونیئر تھری اسٹار جنرل ڈین کن کو فور اسٹار بنا کر سینٹ کام کا سربراہ مقرر کر دیا ہے تاکہ وہ بغیر کسی سوال کے صدارتی احکامات پر عمل کر سکیں۔ یہاں تک کہ اٹارنی جنرل پیم بونڈی کو بھی اس لیے فارغ کر دیا گیا کیونکہ وہ ایپسٹین کیس میں ٹرمپ کا دفاع کرنے میں ناکام رہی تھیں۔
پاکستان میں بھی صورتحال انتہائی سنگین ہو چکی ہے جہاں حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 134 روپے فی لیٹر کا ہوش ربا اضافہ کیا ہے۔ اس اضافے کی اصل حقیقت یہ ہے کہ پیٹرول کی قیمت میں اضافے کے ساتھ ساتھ حکومت نے 55 روپے اضافی ‘لیوی ٹیکس’ بھی لگا دیا ہے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ حکومت صرف عالمی قیمتوں کا بوجھ منتقل نہیں کر رہی بلکہ اپنی آمدن بڑھانے کے لیے عوام کی جیبوں پر ڈاکہ بھی مار رہی ہے۔ سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کے مطابق اس وقت فی لیٹر پیٹرول پر مجموعی ٹیکس 160 روپے تک پہنچ چکا ہے۔ لاہور کی سڑکوں پر ٹریفک غائب ہو چکی ہے اور مہنگائی کا یہ جن اب آٹے، دال اور چینی سمیت ہر چیز کو نگلنے کے لیے تیار ہے۔ اپوزیشن کی خاموشی اور عوامی بے بسی نے ملک میں ایک نئے بحران کو جنم دے دیا ہے۔ امریکی فوج میں ہونی والی اس بڑی اکھاڑ پچھاڑ اور پاکستان کے معاشی قتلِ عام کی مکمل تفصیلات جاننے کے لیے سیدعمران شفقت کا یہ وی لاگ دیکھیں۔



