یونیورسٹی آف لاہور نے خودکشیاں روکنے کیلئے جنگلے لگادیئے
یونیورسٹی آف لاہور میں خودکشی کے افسوسناک واقعات، انتظامیہ کے ہنگامی اقدامات

یونیورسٹی آف لاہور میں حالیہ دنوں میں پیش آنے والے خودکشی کے افسوسناک واقعات نے نہ صرف تعلیمی حلقوں بلکہ پورے معاشرے کو گہرے صدمے سے دوچار کر دیا ہے۔ یہ واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ نوجوان طلبہ شدید ذہنی دباؤ، تعلیمی بوجھ اور سماجی مسائل کا شکار ہو رہے ہیں، جن پر فوری اور سنجیدہ توجہ کی ضرورت ہے۔
ان حالات کے پیشِ نظر یونیورسٹی انتظامیہ نے طلبہ کی ذہنی اور جسمانی سلامتی کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک ہفتے کے لیے تمام کلاسز آن لائن منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد کیمپس میں کشیدگی کم کرنا، حالات کا جائزہ لینا اور حفاظتی انتظامات کو مزید مؤثر بنانا ہے۔
انتظامیہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق کیمپس میں سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے، حساس مقامات پر نگرانی بڑھا دی گئی ہے جبکہ طلبہ کے لیے کونسلنگ اور نفسیاتی معاونت کے انتظامات بھی کیے جا رہے ہیں۔ ماہرِ نفسیات اور کونسلرز کو طلبہ کی مدد کے لیے دستیاب رکھا گیا ہے تاکہ ذہنی دباؤ کا شکار طلبہ کھل کر اپنے مسائل بیان کر سکیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ خودکشی جیسے واقعات محض انفرادی مسئلہ نہیں بلکہ اجتماعی ناکامی کی علامت ہوتے ہیں۔ تعلیمی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ نہ صرف تعلیمی ماحول فراہم کریں بلکہ طلبہ کی ذہنی صحت، جذباتی کیفیت اور سماجی مسائل پر بھی توجہ دیں۔
والدین، اساتذہ اور معاشرے کے دیگر طبقات کو بھی چاہیے کہ وہ نوجوانوں کے ساتھ مکالمہ بڑھائیں، ان کے مسائل سنیں اور بروقت رہنمائی فراہم کریں۔ یونیورسٹی آف لاہور کے حالیہ اقدامات ایک مثبت قدم ضرور ہیں، تاہم مستقل بنیادوں پر ذہنی صحت سے متعلق پالیسیوں اور سہولیات کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔



