وینیزویلا:سفارتکاری ناکام ہوئی تو ایکشن لیا، امریکی سفیر کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں صفائی

سلامتی کونسل اجلاس امریکا تنہائی کا شکار، وینزویلا آپریشن پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام دوست و مخالف ممالک یک زبان، امریکی کارروائی پر شدید تنقید

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک)وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی گرفتاری اور امریکی فوجی کارروائی کے بعد بلائے گئے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں امریکا عالمی سطح پر تنہائی کا شکار نظر آیا، جہاں دوست اور مخالف ممالک نے یکساں طور پر اس کارروائی کو بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دے دیا۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امریکا کے سفیر مائیک والٹز نے امریکی مؤقف کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صدر مادورو کو متعدد بار سفارتی راستے پیش کیے اور کشیدگی کم کرنے کی کوششیں کیں، تاہم مادورو نے ان تمام پیشکشوں کو مسترد کر دیا تھا۔

امریکی سفیر نے کہا کہ امریکا کی وینزویلا یا اس کے عوام سے کوئی جنگ نہیں ہے اور نہ ہی امریکا ملک پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔ ان کے مطابق یہ ایک قانونی کارروائی تھی، جس کا مقصد نارکو ٹیررزم میں مبینہ طور پر ملوث صدر مادورو اور ان کی اہلیہ کو انصاف کے کٹہرے میں لانا تھا۔

مائیک والٹز کا کہنا تھا کہ یہ آپریشن امریکی شہریوں کو منشیات کی لعنت سے محفوظ رکھنے کے لیے ناگزیر تھا اور امریکا وینزویلا کے عوام کے لیے امن، آزادی اور خوشحالی کا خواہاں ہے۔

دوسری جانب اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیریس کا بیان اجلاس میں پڑھ کر سنایا گیا، جس میں امریکی کارروائی کو ایک خطرناک مثال قرار دیا گیا۔ بیان میں کہا گیا کہ اس آپریشن میں بین الاقوامی قوانین اور اقوامِ متحدہ کے منشور کی پاسداری نہیں کی گئی۔

اجلاس کے دوران روس، چین، برازیل، کولمبیا، کیوبا سمیت متعدد ممالک نے امریکی اقدام کو جارحیت کا جرم قرار دیا، جبکہ یورپی اتحادیوں نے بھی محتاط مگر واضح الفاظ میں بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی پر تنقید کی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق سلامتی کونسل کے اجلاس میں غیر معمولی اتفاقِ رائے نے وینزویلا معاملے پر امریکا کی سفارتی تنہائی کو نمایاں کر دیا ہے، جس کے عالمی سیاست پر دور رس اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔

مزید خبریں

Back to top button