عمرکوٹ میں پولیس کارروائی پر ہنگامہ، 9 اہلکار معطل، متاثرہ خواتین کو گھروں میں واپسی جانے کی اجازت

عمرکوٹ (میندھرو کاجھروی/ جانو ڈاٹ پی کے) عمرکوٹ میں پولیس کی بھاری نفری کے حملے اور مبینہ وحشیانہ تشدد کے بعد متاثرہ لڑکیاں ساری رات سڑکوں پر بے سہارا پڑی رہیں۔ رات بھر جاری شدید احتجاج کے بعد آئی جی سندھ نے سخت نوٹس لیتے ہوئے دو انسپکٹرز سمیت 9 پولیس اہلکاروں کو معطل کر کے فوری رپورٹ طلب کر لی ہے۔
دوسری جانب گھروں سے بے دخل کیے گئے متاثرہ مردوں کو وکلاء کی مداخلت کے بعد ضمانت پر رہا کرنے کا حکم بھی دے دیا گیا۔
آئی جی سندھ کے حکم پر معطل کیے گئے اہلکاروں میں انسپکٹر احمد بخش راہمون، لیڈی انسپکٹر خوشبخت شبانہ ناز، اے ایس آئی کاشف حسین شاہ، ہیڈ کانسٹیبل 185 جمیل احمد، لیڈی ہیڈ کانسٹیبل 167 شاہین، لیڈی پولیس کانسٹیبل 408 فاطمہ اکبر، لیڈی پولیس کانسٹیبل 471 زیب النساء، لیڈی پولیس کانسٹیبل 1023 صوبیہ اور لیڈی پولیس کانسٹیبل 368 شاہ رخ شامل ہیں۔
واقعے پر سندھ کے وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ یہ واقعہ ناقابلِ قبول ہے اور سندھ کی بیٹیوں کی تذلیل کسی صورت برداشت نہیں کی جا سکتی۔
سیاسی و سماجی شخصیات، شہریوں، وکلاء اور صحافیوں کے دباؤ کے بعد متاثرہ خواتین کو واپس گھروں میں جانے کی اجازت دی گئی۔ تاہم ذرائع کے مطابق جب وہ گھروں میں پہنچیں تو زیورات اور دیگر قیمتی سامان سمیت گھریلو اشیاء غائب تھیں۔ شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ پولیس کارروائی کے دوران سامان اٹھا لیا گیا۔
واقعے کی سوشل، پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر شدید مذمت کی گئی جبکہ ضمیر دار صحافیوں نے ایس ایس پی عمرکوٹ کی پریس کانفرنس کا مکمل بائیکاٹ بھی کیا۔
صوبائی وزیر تعلیم سید سردار علی شاہ نے کیجراڑی کے سیدوں کی حمایت کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ متاثرہ لڑکیوں کے ساتھ غلط سلوک ہوا ہے اور اگر کوئی سید ناجائز عمل کرے گا تو وہ اس کی حمایت نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایس ایس پی سے بات کر کے فوری اقدامات کی ہدایت دی گئی ہے اور سولنگی برادری کی متاثرہ بیٹیوں کو انصاف دلایا جائے گا۔
ادھر حاجی خالد سراج سومرو نے اعلان کیا کہ اگر متنازعہ پلاٹ واقعی سیدوں کا ہے تو وہ اس کی قیمت ادا کرنے کو تیار ہیں، بصورت دیگر متاثرین ان کی زمین پر آ کر رہ سکتے ہیں۔ انہوں نے متاثرہ خاندانوں کو فی کس 50 ہزار روپے نقد امداد بھی دی۔
پیپلز پارٹی کے ایم پی اے تیمور ٹالپر نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کو چادروں سے کھینچنا انتہائی شرمناک عمل تھا اور ملوث اہلکاروں کے خلاف فوری کارروائی ہونی چاہیے۔
شہریوں نے الزام عائد کیا ہے کہ اس معاملے میں ایس ایچ او سٹی کے ساتھ سی آئی اے انچارج عزیز راہمون بھی ملوث ہے جس نے مبینہ طور پر اہلکاروں کو خواتین کو اٹھانے کے احکامات دیے۔ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ اسے بھی معطل کر کے تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
سابق ایم پی اے لال مالھی بھی ساری رات متاثرین کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے موجود رہے۔



