عمرکوٹ:گلا کٹا نوجوان مسکراتے ہوئے جاں بحق،قاتل گرفتار،جرم کا اعتراف

تھرپارکر(رپورٹ:میندھرو کاجھروی/جانو ڈاٹ پی کے)

عمرکوٹ میں ایک نوجوان کا گلا کاٹ کر قتل کر دیا گیا،نوجوان چہرے پر مسکراہٹ سجائے دم توڑ گیا۔ قاتل مقتول کا سگا کزن نکلا، جسے حیدرآباد سے گرفتار کر لیا گیا ہے، جبکہ ملزم نے قتل کا اعتراف بھی کر لیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق 22 سالہ محمد اسماعیل ولد جمال الدین سمیجو، جو گاؤں اکلو سمیجو کا رہائشی تھا، گزشتہ روز عمرکوٹ شہر میں گاڑی کی مرمت کروانے آیا تھا کہ چند ملزمان نے تیز دھار چھری سے اس کا گلا کاٹ دیا۔ شدید زخمی حالت میں اسماعیل اپنے ہاتھ سے گلے سے بہتے خون کو روکنے کی کوشش کرتا ہوا عمرکوٹ کے مرکزی چوراہے تک پہنچا، جہاں شہریوں نے اسے تشویشناک حالت میں دیکھا اور پولیس کو اطلاع دی، مگر نہ پولیس پہنچی، نہ مددگار پولیس، اور نہ ہی ایمرجنسی ایمبولینس۔

نوجوان چہرے پر مسکراہٹ سجائے زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا رہا، مگر زیادہ خون بہنے کے باعث اسپتال لے جاتے ہوئے راستے میں ہی دم توڑ گیا۔

اس افسوسناک واقعے کے بعد شہری سراپا احتجاج بن گئے اور مین روڈ پر دھرنا دے دیا۔ ایس ایس پی عمرکوٹ دھرنے کے مقام پر پہنچے اور ملزم کی گرفتاری کی یقین دہانی کراتے ہوئے تحقیقات شروع کروائی۔

پولیس نے دورانِ تفتیش ملزم کا سراغ لگا کر فوری کارروائی کرتے ہوئے الہداد سمیجو کو حیدرآباد سے گرفتار کر لیا۔ اطلاعات کے مطابق ملزم مقتول کا کزن ہے اور اس نے ابتدائی تفتیش میں قتل کا اعتراف کر لیا ہے۔

پولیس کے مطابق ملزم نے بیان دیا کہ اس نے تیز دھار چھری سے نوجوان کو قتل کیا اور واردات کے بعد چھری بس اسٹاپ کے قریب پھینک دی، پھر وہاں سے گاڑی میں بیٹھ کر حیدرآباد چلا گیا، جہاں سے پنجاب فرار ہونے کی کوشش کر رہا تھا کہ عمرکوٹ پولیس نے اسے گرفتار کر لیا۔

تاحال قتل کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی، پولیس مزید تحقیقات کر رہی ہے اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس واردات میں دیگر افراد بھی شامل ہو سکتے ہیں، جنہیں جلد قانون کی گرفت میں لایا جائے گا۔

اسماعیل کے قتل کے بعد عمرکوٹ اور تھرپارکر اضلاع میں سوگ کی لہر دوڑ گئی۔ مقتول کا جسد خاکی آبائی گاؤں پہنچنے پر کہرام مچ گیا اور ہر آنکھ اشکبار تھی۔ مقتول کو ہزاروں سوگواروں کی موجودگی میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔

عمرکوٹ ضلع میں مسلسل جرائم کے بعد پولیس کی کارکردگی پر شدید سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ سیاسی و سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ عمرکوٹ پولیس امن و امان برقرار رکھنے کے بجائے منشیات کے اڈے چلانے اور ماہانہ وصولیوں میں مصروف ہے، جس کے باعث امن و امان کی صورتحال دن بہ دن خراب ہوتی جا رہی ہے۔

شہریوں کے مطابق واردات مددگار پولیس چوکی سے صرف 50 فٹ کے فاصلے پر ہوئی، مگر پولیس وقت پر نہ پہنچی، جس کے باعث نوجوان کی جان بچائی نہ جا سکی۔ مزید یہ کہ زخمی نوجوان کو پولیس موبائل کے بجائے ایک شہزور گاڑی میں اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں راستے میں ہی اس نے دم توڑ دیا۔

مزید خبریں

Back to top button