​ٹرمپ کا ایران کو48گھنٹے کا الٹی میٹم،اسرائیل میں تباہی اور پی ایس ایل11پر جنگ کے سائے

​تہران/واشنگٹن/لاہور(جانوڈاٹ پی کے)امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر مسلط کردہ جنگ آج تیسویں دن میں داخل ہو چکی ہے اور صورتحال اس قدر سنگین ہو گئی ہے کہ اب دنیا بھر میں ایٹمی تصادم کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کیونکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی فرسٹریشن عروج پر پہنچ چکی ہے اور صدر ٹرمپ نے ایران کو آبنائے حرمز مکمل طور پر بحال کرنے کے لیے 48 گھنٹے کا حتمی الٹی میٹم دے دیا ہے اور دھمکی دی ہے کہ اگر راستہ نہ کھولا گیا تو ایران کے بڑے بجلی گھروں اور توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنا کر پورے ملک کو اندھیرے میں ڈبو دیا جائے گا تاہم ایران نے بھی جوابی وار کی تیاری کر رکھی ہے اور آبنائے حرمز سے گزرنے والے ہر جہاز پر 20 لاکھ ڈالر ٹیکس وصول کرنا شروع کر دیا ہے جس نے امریکی معیشت اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کو آگ لگا دی ہے جبکہ ایران کے جوابی حملوں نے اسرائیل کے محفوظ ترین سمجھے جانے والے جوہری بجلی گھر ڈیمونا اور اراد جیسے شہروں میں ایسی تباہی مچائی ہے جس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی اور عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی نے بھی ایٹمی تنصیبات پر حملوں کے نتیجے میں تابکاری پھیلنے کے خطرے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور جنگ کے ان ہولناک اثرات سے پاکستان بھی شدید متاثر ہو رہا ہے جہاں توانائی کے بڑھتے ہوئے بحران اور تیل کی قلت کے باعث پی سی بی چیئرمین محسن نقوی نے اعلان کیا ہے کہ پی ایس ایل کا گیارہواں سیزن تماشائیوں کے بغیر اور بند دروازوں کے پیچھے کھیلا جائے گا کیونکہ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر ٹرمپ نے ایران کے خلاف محدود پیمانے پر ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کا جنونی فیصلہ کیا تو اس کے نتائج نہ صرف خطے بلکہ خود امریکہ کے لیے بھی تباہ کن ثابت ہوں گے کیونکہ 23 دن کی مسلسل بمباری کے باوجود ایران کا میزائل پروگرام اور دفاعی صلاحیت جوں کی توں برقرار ہے۔

YouTube player

مزید خبریں

Back to top button