افغانستان میں نیٹو فوجی فرنٹ لائن پر نہیں تھے: ٹرمپ کی تنقید

ڈیوس(جانوڈاٹ پی کے)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر نیٹو کے اتحادی ممالک پر تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ افغانستان میں طالبان کے خلاف جنگ کے دوران نیٹو کے غیر امریکی فوجی محاذِ جنگ سے کچھ پیچھے رہے اور وہ فرنٹ لائن پر نہیں تھے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ نیٹو کی جانب سے باہمی دفاع کی شق صرف ایک بار استعمال کی گئی، جو 11 ستمبر کے دہشت گرد حملوں کے بعد عمل میں آئی، جب رکن ممالک نے افغانستان میں ہزاروں فوجی تعینات کیے۔ تاہم ان کے بقول اتحادی ممالک کی شمولیت محدود نوعیت کی تھی۔

جمعرات کو ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ وہ یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ اگر امریکا کو کسی بڑے خطرے کا سامنا ہو تو نیٹو اس کے دفاع کے لیے  امتحان پر پورا اترے گا۔

ٹرمپ نے کہا کہ ’ہمیں کبھی ان کی ضرورت نہیں پڑی۔ وہ کہیں گے کہ انہوں نے افغانستان میں کچھ فوجی بھیجے اور بھیجے بھی، لیکن وہ ذرا پیچھے رہے، محاذِ جنگ سے کچھ دور‘۔

بعد ازاں جمعرات کی شب اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے لکھا کہ شاید ہمیں نیٹو کو آزمانا چاہیے تھا، آرٹیکل 5 نافذ کرتے اور نیٹو کو مجبور کرتے کہ وہ یہاں آ کر ہماری جنوبی سرحد کو غیر قانونی تارکینِ وطن کی مزید دراندازی سے بچاتا، تاکہ بڑی تعداد میں بارڈر پٹرول اہلکار دیگر ذمہ داریوں کے لیے دستیاب ہوتے‘۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق افغانستان میں 20 سالہ جنگ کے دوران مجموعی طور پر 3 ہزار 486 نیٹو فوجی ہلاک ہوئے، جن میں 2 ہزار 461 امریکی فوجی تھے۔ اس جنگ میں 457 برطانوی فوجی ہلاک ہوئے جبکہ 2 ہزار دیگر فوجی اور شہری اہلکار زخمی ہوئے۔

مزید خبریں

Back to top button