جنگیں رکوانے کے باوجود نوبیل امن انعام نہ ملنے پر ٹرمپ برہم، امریکی مفاد کو ترجیح دینے کا اعلان

واشنگٹن(جانوڈاٹ پی کے)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ناروے کے وزیرِاعظم کو تحریری پیغام میں کہا ہے انہیں نوبیل امن انعام نہیں دیا گیا اس وجہ سے وہ اب خود کو صرف امن کے بارے میں سوچنے کا پابند محسوس نہیں کرتے۔
غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق یہ پیغام ناروے کے وزیرِاعظم یوناس گار اسٹورے اور فن لینڈ کے صدر الیگزینڈر اسٹب کے مختصر خط کے جواب میں بھیجا گیا تھا۔
ٹرمپ کو بھیجے گئے مختصر خط میں ان رہنماؤں نے یورپی اتحادیوں پر عائد امریکی محصولات کی مخالفت کی تھی۔ ان محصولات کی وجہ یہ بتائی گئی کہ یورپی ممالک نے امریکا کو گرین لینڈ پر کنٹرول دینے سے انکار کیا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے اپنے پیغام میں کشیدگی کم کرنے پر زور دیتے ہوئے صدر ٹرمپ سے فون پر بات کرنے کی درخواست بھی کی تھی۔
صدر ٹرمپ نے اپنے جواب میں لکھا کہ چونکہ ناروے نے انہیں 8 سے زائد جنگیں رکوانے کے باوجود نوبیل امن انعام نہیں دیا، اس لیے اب وہ خود کو صرف امن کے بارے میں سوچنے کا پابند محسوس نہیں کرتے، اگرچہ امن ان کی ترجیح رہے گا، مگر اب وہ اس پر بھی غور کریں گے کہ امریکا کے لیے کیا درست اور مفید ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ طویل عرصے سے نوبیل امن انعام کے لیے مہم چلاتے رہے ہیں، تاہم گزشتہ سال یہ اعزاز وینزویلا کی اپوزیشن رہنما ماریا کورینا ماچاڈو کو دیا گیا تھا۔ ناروے کے وزیرِاعظم نے اس حوالے سے واضح کیا کہ نوبیل انعام ایک آزاد کمیٹی دیتی ہے نہ کہ ناروے کی حکومت۔
اپنے پیغام میں صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر ڈنمارک کی گرین لینڈ پر خودمختاری پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ڈنمارک اس خطے کو روس یا چین سے محفوظ نہیں رکھ سکتا اور یہ بھی سوال کیا کہ آخر ڈنمارک کو اس جزیرے پر ملکیت کا حق کیوں حاصل ہے۔



