ٹرمپ کا اسرائیلی لابی کو سجدہ،70ہزار فوجیوں کی قربانی

واشنگٹن/تہران(خصوصی تجزیاتی رپورٹ/جانو ڈاٹ پی کے)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک حالیہ خطاب میں ایران کو اگلے تین سے چار ہفتوں تک شدید بمباری کا نشانہ بنانے اور اسے ‘پتھر کے دور’ میں دھکیلنے کی دھمکی دی ہے، تاہم دفاعی ماہرین اسے ایک جنیونی شکست خوردہ لیڈر کی بڑھک قرار دے رہے ہیں۔ ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ ایران میں حکومت کی تبدیلی اور ایٹمی پروگرام کی تباہی جیسے اسٹریٹجک اہداف حاصل کر لیے گئے ہیں، لیکن زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ پینٹاگون کی خفیہ بریفنگ کے مطابق، اگر امریکہ ایران سے افزودہ یورینیم نکالنے کا آپریشن کرتا ہے تو اسے کم از کم 70 ہزار فوجیوں کو ایرانی سرزمین پر اتارنا ہوگا، اور اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں کہ ان میں سے کتنے فوجی زندہ واپس آئیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ نے ابنائے ہرمز کو طاقت کے زور پر کھلوانے کے اپنے سابقہ دعووں سے پسپائی اختیار کرتے ہوئے اب یہ آپریشن دیگر ممالک پر چھوڑ دیا ہے۔
اسرائیل اور امریکہ کے درمیان اختلافات بھی کھل کر سامنے آگئے ہیں۔ٹرمپ نے چند روز قبل جنگ بندی کا اشارہ دیا تھا جسے نیتن یاہو نے مسترد کرتے ہوئے اعلان کیا کہ امریکہ نکل بھی گیا تو اسرائیل حملے جاری رکھے گا۔ اس دباؤ کے بعد ٹرمپ مکمل طور پر اسرائیلی رنگ میں رنگے نظر آ رہے ہیں۔ ادھر ایران نے اسرائیلی شہروں پر میزائلوں کی بارش کر کے دفاعی نظام ‘آئرن ڈوم’ کی قلعی کھول دی ہے اور پہلی بار اسرائیل نے ایرانی حملوں سے ہونے والی وسیع پیمانے کی تباہی کا اعتراف کیا ہے۔ پاکستان اور چین کی جانب سے پیش کردہ پانچ نکاتی امن فارمولا اس وقت خطے کو بڑی تباہی سے بچانے کا واحد راستہ نظر آ رہا ہے، لیکن ٹرمپ کی ‘پیس تھرو اسٹرینتھ’ (Peace through Strength) کی پالیسی مشرق وسطیٰ میں بری طرح ناکام ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ اس سنگین صورتحال اور عالمی سیاست میں آنے والی بڑی تبدیلیوں کا مکمل احوال جاننے کے لیے معروف دفاعی تجزیہ کار معظم فخر کا خصوصی وی لاگ نیچے دیے گئے لنک پر کلک کر کے مکمل دیکھیں۔




