ایرانی رجیم نے جنگ بندی کی درخواست کردی،نئی قیادت ذہین اور پہلے سے کم شدت پسند ہے،ٹرمپ

واشنگٹن(جانوڈاٹ پی کے)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی نئی رجیم کے صدر نے ابھی امریکا سے جنگ بندی کی درخواست کی ہے۔ٹرمپ نے کہا کہ ایران کی نئی رجیم کے صدرپہلے والوں سے کہیں کم شدت پسند اور کہیں زیادہ ذہین ہیں ، ہم جنگ بندی کی درخواست پر غور کریں گے۔امریکی صدر نے کہا کہ درخواست پر تب غور کریں گے جب آبنائے ہرمز کھلی اور مکمل طور پر محفوظ ہو جائے گی، تب تک ایران پر حملےجاری رہیں گے، اسے پتھر کے زمانے میں دھکیل دیں گے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے برطانوی خبر رساں ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے ایران میں حکومت کی مکمل تبدیلی کر دی ہے، ایران سے بہت جلد نکل جائیں گے لیکن ٹائم لائن نہیں دے سکتے۔ٹرمپ نے کہا کہ ایران میں ہمارے ابھی کچھ اہداف باقی ہیں، اگر ضرورت پڑی تو ہم واپس آ کر ان اہداف پر حملے کرینگے۔امریکی صدر نے کہاکہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا نہ ہی جوہری ہتھیار حاصل کرنا چاہے گا، جوہری مواد کے بارے میں پریشان نہیں، اس کی سیٹلائٹ سے نگرانی کریں گے۔ٹرمپ کا کہنا تھا کہ آج کی تقریر میں نیٹو کے بارے میں ناپسندیدگی کا اظہار کروں گا، امریکا کو نیٹو سے نکالنے پر غور کر رہے ہیں۔واضح رہے کہ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2 سے 3 ہفتوں میں ایران جنگ سے نکلنے کا اعلان کیا تھا۔
وائٹ ہاؤس میں میڈیا سےگفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران میں رجیم چینج پہلے ہی ہوچکی ہے لیکن رجیم چینج امریکاکا مقصد نہیں تھا بلکہ فوجی کارروائی کا اصل مقصد ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا تھا اور یہ ہدف حاصل کر لیاگیا ہے۔



