ٹرمپ کی دھمکیوں پر ایران کا جواب” چل ہٹ”: عمران خان کے لیے بھی بری خبر

کراچی: مانیٹرنگ ڈیسک (جانو ڈاٹ پی کے) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو ایک بار پھر ‘آخری وارننگ’ جاری کی ہے۔ ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ اگر ایران نے فوری طور پر ڈیل نہ کی تو امریکہ ایران کے بجلی گھروں، تیل کی تنصیبات اور یہاں تک کہ واٹر فلٹریشن پلانٹس (پانی کے منصوبوں) پر بھی براہِ راست حملہ کر سکتا ہے۔ اس کے جواب میں ایران نے بھی سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ہماری سویلین تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تو ہم خلیج میں کسی انسان کو رہنے کے قابل نہیں چھوڑیں گے، کیونکہ صحرائی علاقوں میں پینے کے پانی کا تمام تر دارومدار انہی پلانٹس پر ہے۔
جنگی ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ اس وقت شدید فرسٹریشن کا شکار ہیں کیونکہ ایران ان کی دھمکیوں میں نہیں آ رہا۔ اب امریکہ ایران کے اندر ‘گراؤنڈ فورسز’ اتارنے اور جزیرہ خارگ پر قبضے جیسے انتہائی اقدامات پر غور کر رہا ہے۔ تاہم، روس اور چین کی پسِ پردہ ایران کو مکمل انٹیلیجنس اور ٹیکنالوجی کی حمایت حاصل ہے، جس کی وجہ سے امریکہ کے لیے یہ جنگ جیتنا تقریباً ناممکن نظر آ رہا ہے۔
پاکستان کے اندرونی حالات کے حوالے سے یہ خبریں سامنے آئی ہیں کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے علماء سے ملاقات میں واضح کر دیا ہے کہ پاکستان اپنی سرزمین پر کسی بھی قسم کے تشدد یا فرقہ وارانہ انارکی کو برداشت نہیں کرے گا۔ دوسری طرف، تحریکِ انصاف کے اندرونی اختلافات اور عالمی جنگی حالات کی وجہ سے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کی کوششیں فی الحال ‘صفر’ ہو کر رہ گئی ہیں۔ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے بھی مبینہ طور پر ‘رہائی فورس’ بنانے کے فیصلے سے پسپائی اختیار کر لی ہے، جس سے پی ٹی آئی کی احتجاجی تحریک کو بڑا دھچکا لگا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ کی اس سنگین صورتحال اور پاکستان پر اس کے اثرات پر امداد سومرو کا یہ خصوصی تجزیہ دیکھیں؛




