ٹرمپ کی ‘گوگلی’ اور نیتن یاہو پر لٹکتی تلوار

لاہور(خصوصی رپورٹ:جانو ڈاٹ پی کے)مشرقِ وسطیٰ کی جنگ نازک موڑ پر پہنچ گئی،ایک طرف امن کی امیدیں وابستہ ہیں تو دوسری طرف تندوتیز بیانات جلتی پر تیل کا کام کر رہے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جہاں اس ہفتے کے آخر تک ایران کے ساتھ ایک بڑی ‘پیس ڈیل’ (Peace Deal) کے اشارے دیے ہیں،وہاں اپنے اس بیان سے نئی بحث چھیڑ دی ہے کہ "ایرانی تیل پر قبضہ کرنا میرا پسندیدہ مشغلہ ہے”۔ ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ امریکہ جزیرہ خارک جیسے اہم ایرانی برآمدی مراکز پر آسانی سے قابض ہو سکتا ہے، کیونکہ ایران کے پاس مؤثر دفاعی نظام موجود نہیں۔
دوسری جانب، اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو کے لیے اندرونی محاذ پر مشکلات بڑھتی جا رہی ہیں۔ اسرائیل کے صدر نے ٹرمپ کی سفارش کے باوجود نیتن یاہو کی کرپشن کیسز میں معافی کی درخواست مسترد کر دی ہے، جس کا مطلب ہے کہ نیتن یاہو پر گرفتاری کی تلوار لٹک رہی ہے۔ حالیہ سروے کے مطابق اسرائیل کے 80 فیصد عوام نیتن یاہو کی جنگی پالیسیوں کے خلاف سڑکوں پر ہیں۔
جنگ کی تباہ کاریوں کے حوالے سے تہران سے موصولہ اطلاعات کے مطابق، ریڈ کراس نے تصدیق کی ہے کہ اب تک ایران میں 93 ہزار سے زائد رہائشی عمارتیں تباہ ہو چکی ہیں، جن میں سے 20 ہزار صرف تہران میں ہیں۔ اس کے باوجود ایرانی قوم کا مورال بلند ہے اور حکومت نے بے گھر ہونے والے لاکھوں افراد کو متبادل جگہوں پر فوری منتقل کر دیا ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ ان کے پاس اگلے چھ ماہ تک روزانہ 400 سے 500 ڈرونز اور میزائل فائر کرنے کی صلاحیت موجود ہے اور وہ اس دوران مزید ذخیرہ بھی تیار کر سکتے ہیں۔




