ٹرمپ کی15شرائط پر تہران کا زوردار طمانچہ!

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے)​امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کو دی گئی ‘امن ڈیل’ کے 15 نکات منظرِ عام پر آ گئے ہیں، جسے امریکی میڈیا اور مبصرین ٹرمپ کا ‘سفارتی اعترافِ شکست’ قرار دے رہے ہیں۔ ان نکات میں ایران سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ نتنز، اصفہان اور فردو کی جوہری تنصیبات کا مستقل خاتمہ کرے، افزودہ یورینیم عالمی ایجنسی کے حوالے کرے، اور بیلسٹک میزائل پروگرام کی تعداد و حد مقرر کرے۔ بدلے میں امریکہ نے ایران پر عائد تمام پابندیاں ختم کرنے، دوبارہ پابندیاں نہ لگانے کی ضمانت دینے اور شہری مقاصد کے لیے جوہری توانائی میں مدد فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے۔

​مبصرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ ایک طرف ‘ریجیم چینج’ (نظام کی تبدیلی) کے دعوے کر رہے ہیں اور دوسری طرف اسی قیادت سے مذاکرات کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں، جو ان کے تضادات کو ظاہر کرتا ہے۔ ایران نے ان شرائط کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ صرف ‘جنگ بندی’ نہیں بلکہ مستقل حل اور اپنی شرائط پر امن چاہتا ہے۔ ایرانی عسکری ترجمان ابراہیم ذوالفقاری نے طنزاً کہا ہے کہ ٹرمپ اپنی شکست کو معاہدے کا نام دے کر نکلنا چاہتے ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ایک ماہ کی شدید بمباری کے باوجود ایران کو ایک انچ پیچھے نہیں ہٹایا جا سکا۔

​پاکستان اس وقت اس پیچیدہ صورتحال میں سب سے اہم مہرے کے طور پر ابھرا ہے۔ امریکہ اب پاکستان، ترکی اور مصر کے ذریعے ایران سے ‘سیف ایگزٹ’ (محفوظ واپسی) کی بھیک مانگ رہا ہے۔ اگر پاکستان کی ثالثی سے ایران پر سے پابندیاں ہٹ جاتی ہیں، تو یہ خطے میں ایران کو ایک ناقابلِ تسخیر طاقت بنا دے گا، جس کا اعتراف اب خود امریکی حلقوں میں بھی کیا جا رہا ہے۔

مزید تفصیلات کے لیے سینئرصحافی امداد سومرو کی یہ ویڈیو دیکھیں

YouTube player

 

مزید خبریں

Back to top button