سکھر ایکسپریس کی بوگی پٹڑی سے اتر گئی، مسافروں میں خوف و ہراس، کوئی جانی نقصان نہیں ہوا

سکھر(جانوڈاٹ پی کے)ٹرین حادثات کا نہ تھمنے والا سلسلہ سکھر و ملتان ڈویژن میں بڑھتے حادثات مسافروں میں خوف و ہراس روہڑی میں سکھر ایکسپریس کی سلیپر بوگی پٹڑی سے اتر گئی، بڑا حادثہ ٹل گیا مسافروں کا شدید احتجاج، ریلوے انتظامیہ کی مبینہ غفلت پر سخت تنقید بوسیدہ ٹریک،ناکارہ کانٹا اور سگنل سسٹم حادثات کی بڑی وجہ قرارتفصیلات کے مطابق ملک بھر میں ٹرین حادثات کا سلسلہ تاحال نہ رک سکا گزشتہ دو ہفتوں کے دوران متعدد حادثات نے خصوصاً سکھر اور ملتان ڈویژن میں مسافروں کو شدید خوف و ہراس میں مبتلا کر دیا ہے جبکہ ریلوے نظام کی کارکردگی پر بھی سنگین سوالات اٹھنے لگے ہیں پیر کی صبح کراچی سے سکھر اور جیکب آباد جانے والی سکھر ایکسپریس روہڑی ریلوے اسٹیشن پر داخل ہوتے ہی حادثے کا شکار ہو گئی ٹرین جیسے ہی پلیٹ فارم کے قریب پہنچی تو اچانک اس کی ایک سلیپر بوگی پٹڑی سے اتر گئی جس کے باعث مسافروں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا عینی شاہدین کے مطابق حادثے کے وقت ایک زور دار جھٹکا محسوس ہوا تاہم ٹرین کی رفتار کم ہونے کے باعث کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور تمام مسافر محفوظ رہے یوں ایک بڑا سانحہ ٹل گیا اطلاع ملتے ہی ریلوے حکام اور امدادی ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں اور متاثرہ بوگی کو دوبارہ پٹڑی پر لانے کے لیے کارروائیاں شروع کر دی گئیں واقعے کے بعد مسافروں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سخت ردعمل کا اظہار کیا اور ریلوے انتظامیہ کی مبینہ نااہلی کو حادثات کی بنیادی وجہ قرار دیا ان کا کہنا تھا کہ ٹرین حادثات اب معمول بنتے جا رہے ہیں جس سے مسافروں کا اعتماد بری طرح متاثر ہو رہا ہے انہوں نے مزید کہا کہ ہزاروں ملازمین ہونے کے باوجود ریلوے کے نظام میں بہتری نظر نہیں آتی جو انتہائی تشویشناک ہے دوسری جانب باخبر ذرائع کے مطابق سکھر اور ملتان ڈویژن کا ریلوے ٹریک،لائن تبدیلی(کانٹا) سسٹم اور سگنل سسٹم انتہائی بوسیدہ اور عمر رسیدہ ہو چکے ہیں بالخصوص روہڑی اسٹیشن کے داخلی ٹریک ریلوے لائن اور کانٹا سسٹم ناقابلِ استعمال حد تک خراب ہو چکے ہیں ریلوے ٹریک کی مناسب دیکھ بھال نہیں کی جا رہی جبکہ ٹریک کو مضبوط بنانے کے لیے لگائے گئے لوہے کے نٹ اور بولٹ بھی اکثر غائب ہوتے ہیں جو مبینہ طور پر چوری ہو جاتے ہیں لیکن ان کی نگرانی کے لیے کوئی مؤثر نظام موجود نہیں جس کے باعث یہاں سے گزرنے والی مسافر اور مال بردار ٹرینوں کے پٹڑی سے اترنے کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر فوری بنیادوں پر ٹریک کی مرمت،کانٹا سسٹم کی تبدیلی اور جدید سگنلنگ نظام متعارف نہ کرایا گیا تو مستقبل میں مزید بڑے حادثات کا خدشہ موجود ہے مسافروں نے وزیراعظم،وفاقی وزیر ریلوے اور متعلقہ اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ حالیہ حادثے کا فوری نوٹس لیا جائے ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور ریلوے نظام کو محفوظ بنانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام میں پائی جانے والی بے چینی اور خوف و ہراس کا خاتمہ ممکن ہو سکے بعد ازاں حادثہ کا شکار سکھرایکسپریس کی متاثرہ بوگی کو پٹڑی پر چڑھاکر ٹرین کو منزل کی جانب روانہ کردیا



