امریکی سپر پاور غبارے سے ہوا نکل گئی، اسرائیل کی فلسطینیوں پر ظلم کی تازہ لہر

تہران/واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک \جانو ڈاٹ پی کے)ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی اب ایک ایسے موڑ پر پہنچ گئی ہے جہاں عالمی معیشت، تیل کی قیمتیں اور سٹاک مارکیٹس مکمل طور پر اس جنگ کے رحم و کرم پر ہیں۔
دفاعی ماہرین کے مطابق، امریکہ اب اس صدی کی وہ روایتی سپر پاور نہیں رہا جو ورلڈ وار ٹو کے بعد ڈیزائن کی گئی تھی۔ موجودہ دور ‘ایس میٹرک وارفیئر’ (Asymmetric Warfare) اور ہائپرسونک میزائلوں کا ہے، جس میں ایران، روس اور چین کو برتری حاصل ہے۔ ایران نے حال ہی میں اصفہان اور زنجان کے علاقوں میں امریکی و اسرائیلی حملوں کی تصدیق کی ہے، جہاں ایک مسجد کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ دوسری جانب، ایران نے جنوبی اسرائیل میں ایٹمی تنصیبات اور فوجی تحقیقی مراکز پر درستگی کے ساتھ جوابی حملے کیے ہیں۔
سیاسی محاذ پر ایک بڑا سکینڈل سامنے آ رہا ہے جس کے مطابق امریکی وزیرِ جنگ پیٹ ہیگز (Pete Hegseth) نے جنگ سے قبل بڑی سرمایہ کار کمپنی ‘بلیک راک’ (Black Rock) کے ذریعے انویسٹمنٹ کے لیے رابطہ کیا تھا۔ فنانشل ٹائمز کی اس رپورٹ نے امریکی پولیٹیکل سسٹم میں موجود کرپشن اور جنگی مفادات کو بے نقاب کر دیا ہے۔
فلسطین کے حوالے سے انتہائی تشویشناک خبر یہ ہے کہ اسرائیلی پارلیمنٹ نے فلسطینیوں کو پھانسی دینے کا قانون پاس کر دیا ہے، جس کے تحت 90 دن کے اندر سزائے موت دی جا سکے گی۔ اس قانون کا اطلاق صرف فلسطینیوں پر ہوگا، جس پر عالمی سطح پر شدید احتجاج جاری ہے۔
ایران جنگ کے بدلتے ہوئے اہداف اور مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر توصیف احمد خان کا مکمل تجزیہ یہاں دیکھیں؛




