سندھ میں خودکشی کی روک تھام کے فریم ورک کے پائلٹ آغاز کے لیے SIEHS کا کثیرالجہتی مکالمہ منعقد

ٹھٹھہ ( جاوید لطیف میمن، نمائندہ جانوڈاٹ پی کے) سندھ انٹیگریٹڈ ایمرجنسی اینڈ ہیلتھ سروسز (SIEHS)، حکومتِ سندھ کا پری ہاسپٹل اور مربوط صحت کا ادارہ، نے “ٹاک دی ہوپ” کے عنوان سے ایک کثیرالجہتی مکالمہ منعقد کیا، جس کا مقصد سندھ کے حساس اضلاع کے لیے ایک منظم خودکشی سے بچاؤ میٹرکس کی تیاری کا آغاز کرنا تھا اس مکالمے میں یونیسیف، ورلڈ ھیتلھ آرگنائیزیشن، یونائیٹڈ نیشنز، سمیر دیگر تنظیموں کے نمائندگان نے شرکت کی۔ اس کے علاوہ ریسکیو 1122، محکمہ ترقیٔ نسواں سندھ، سندھ مینٹل ہیلتھ اتھارٹی، سندھ ہیومن رائٹس کمیشن، کراچی یونیورسٹی اور پولیس سرجن کراچی کے حکام بھی شریک ہوئے مباحثے میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ایک ایسا عملی فریم ورک تشکیل دیا جائے جو ابتدائی نشاندہی، مؤثر ریفرل سسٹم، ہنگامی ردِعمل اور واقعے کے بعد معاونت کو آپس میں مربوط کرے، تاکہ خطرے سے دوچار افراد تک بروقت اور منظم انداز میں مدد پہنچائی جا سکے۔ شرکاء نے SIEHS کے ٹیلی ہیلتھ پلیٹ فارم ٹیلی طبیب (1123) — جو 24 گھنٹے مفت طبی اور ذہنی صحت کی معاونت فراہم کرتا ہے کو مجوزہ روک تھام کے نظام میں ایک اہم ریفرل اور کونسلنگ مرکز قرار دیا۔

سندھ انٹیگریٹڈ ایمرجنسی اینڈ ھیلت سروسز نے اعلان کیا کہ اس پائلٹ منصوبے کا آغاز ضلع تھرپارکر سے کیا جائے گا، جسے بعد ازاں بدین، سانگھڑ اور جامشورو جیسے دیگر حساس اضلاع تک توسیع دی جائے گی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے سندھ انٹیگریٹڈ ایمرجنسی اینڈ ھیلت سروسز کی چیف ایگزیکٹو آفیسر بریگیڈیئر طارق قادر لاکھیر، نے کہا:

“خودکشی کی روک تھام صرف آگاہی مہمات سے ممکن نہیں۔ اس کے لیے ایسے منظم راستوں کی ضرورت ہے جو لوگوں کو خوف اور بدنامی کے بغیر بروقت مدد تک رسائی دیں۔ یہ مکالمہ ضلعی سطح پر قابلِ عمل اور پائیدار فریم ورک کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ رکنِ صوبائی اسمبلی سندھ، قاسم سراج سومرو نے کہا یہ سندھ کی کمزور برادریوں کے لیے ایک بروقت اور اسٹریٹجک اقدام ہے۔ تھرپارکر کو ایسا فریم ورک درکار ہے جو مقامی حقائق سے ہم آہنگ ہو، ضلعی سطح پر مربوط ہو اور قابلِ رسائی خدمات سے منسلک ہو۔ ہماری ترجیح ہونی چاہیے کہ بدنامی کا خاتمہ کریں، ریفرل نظام مضبوط بنائیں اور مدد کو بروقت یقینی بنائیں—تاکہ المیے سے پہلے مداخلت ممکن ہو سکے۔”

مکالمے کے اختتام پر اداروں نے سندھ بھر میں مربوط خودکشی سے بچاؤ اقدامات کی حمایت کا عزم کیا۔ ڈاکٹر مختیار (WHO) نے ذہنی صحت کے وسائل کے فروغ کے لیے تکنیکی معاونت کی پیشکش کی، جبکہ پریم چند بہادر، چیف فیلڈ آفیسر UNICEF، نے SIEHS کے ساتھ مسلسل شراکت داری کا اعادہ کیا۔ وحیدہ مہیسر، ایگزیکٹو ڈائریکٹر ZABTech، نے کونسلنگ خدمات اور تخصصی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے لیے تعاون کی یقین دہانی کرائی تعلیمی و ادارہ جاتی سطح پر ڈاکٹر فرحہ اقبال، چیئرپرسن University of Karachi، نے تحقیقی معاونت اور طلبہ کی شمولیت کے ذریعے بیس لائن اسٹڈیز اور مداخلتی اقدامات میں تعاون کا اعلان کیا۔ ایڈووکیٹ روبینہ بروہی، چیئرپرسن سندھ کمیشن آن دی اسٹیٹس آف ویمن، نے صنفی حساس اقدامات کی حمایت کا یقین دلایا، جبکہ امبر بھاٹیہ، ڈپٹی ڈائریکٹر محکمہ ترقیٔ نسواں سندھ، نے موجودہ ہیلپ لائنز اور نفسیاتی خدمات کے انضمام کی پیشکش کی راجویر سنگھ سودھا، معاونِ خصوصی برائے انسانی حقوق وزیراعلیٰ سندھ، نے انسانی حقوق کے تحفظ کو مزید مؤثر بنانے، بشمول سیکشن 325 کے نفاذ، پر زور دیا۔ عمران لغاری (اقوامِ متحدہ ریزیڈنٹ کوآرڈینیٹر آفس) نے اعلیٰ سطحی روابط کی یقین دہانی کرائی۔ ڈاکٹر سمئیہ طارق، پولیس سرجن، نے میڈیکو لیگل اور استعداد کار بڑھانے میں تعاون کی پیشکش کی، جبکہ رحیمہ پنہور نے شواہد پر مبنی پالیسی سازی کے لیے تکنیکی مہارت فراہم کرنے کا عزم کیا۔

مزید خبریں

Back to top button