تھرپارکر میں چوریاں:ثابت کرنے پر دیہاتی پر تشدد،درخواست کے باوجود ایس ایس پی کاروائی کرنے میں ناکام

تھرپارکررپورٹ:میندھرو کاجھروی/جانوڈاٹ پی کے)ضلع تھرپارکر میں مویشی چوری کی وارداتیں بے حد بڑھ چکی ہیں، مال مویشی پالنے والوں کی نیندیں حرام ہوگئیں،ننگرپارکر، ڈانو دھاندھل، چھاچھرو، چیلہار، ڈاہلی، جھانگرو سے لے کر مٹھی تعلقہ کے گاؤں میئو اکھیراج اور آس پاس کے علاقوں میں چوریوں کا عذاب اس قدر بڑھ چکا ہے کہ لوگ سخت پریشان ہیں۔

کئی مقامات پر متاثرین کو دھمکیاں دی گئیں اور مار پیٹ بھی کی گئی۔چور کھلے عام چیلنج دیتے رہے کہ پولیس ہمارے ساتھ ہے، جو کرنا ہے کر لو۔ایسی دھمکیاں ایس ایس پی آفس میں انکوائری کے دوران مبینہ ملزمان کی جانب سے متاثرین کو دی گئیں۔9فروری کو گاؤں میئو اکھیراج کے متاثرین نے چوروں کے خلاف ایس ایس پی شعیب میمن کو درخواست دی، جس کی انکوائری ڈی ایس پی ماجد قائمخانی کے سپرد کی گئی۔ پانچ دن تک متاثرین روز صبح ایس ایس پی آفس پہنچتے رہے اور شام 7 بجے تک وہاں بیٹھنے پر مجبور رہے، جبکہ ملزمان کو مکمل آزادی حاصل رہی کہ وہ آئیں یا نہ آئیں، بلکہ دفتر میں متاثرین کی ویڈیوز بھی بناتے رہے۔

جب اس عمل کی شکایت ڈی ایس پی مٹھی سے کی گئی تو انہوں نے اسے غلط قرار دیا، مگر ملزمان کو روک نہ سکے۔

گاؤں میئو اکھیراج کے متاثرین پانچ دن تک مسلسل ذہنی اذیت برداشت کرنے کے بعد میڈیا آفس پہنچے۔

جن میں چانپو ولد ہرچند، ڈیسر ولد ہرچند، قیمت ولد ہرچند، منیش ولد جوڌومل، ریجھومل (تمام میگھواڑ برادری سے) جبکہ کچھ ٹھاکر برادری کے افراد بھی بطور گواہ موجود تھے۔

انہوں نے بتایا کہ کئی سالوں سے چوریاں جاری ہیں، ہزاروں مویشی چوری ہو چکے ہیں۔ صرف گزشتہ ڈیڑھ سال میں 50 بکریاں اور بھیڑیں چوری ہوئیں جو ثابت بھی ہوئیں، مگر ڈی ایس پی ماجد قائمخانی نے انصاف فراہم نہ کیا بلکہ ہمیں "رام پارٹی” اور "وبیشڻ” جیسے القابات سے نوازتے رہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ 27 تاریخ کو ہمارا بکرا چوری ہوا،ہم سراغ لیتے ہوئے پیرو ٹھاکر کے گھر پہنچے۔ بات چیت کے بعد2فروری کو بکرا ثابت ہو گیا۔ہم نے کہا یا تو قسم کھاؤ کہ بکرا نہیں چرایا یا پھر واپس کرو۔ثبوت سامنے آنے پر ملزم بکراواپس دینے پر مجبور ہوئے، مگر اسی دوران انہوں نے بکری کے مالک چانپو میگھواڑ کو گلے سے پکڑ کر تشدد کا نشانہ بنایا اور زمین پر گرا دیا۔

ملزموں کے والد پیرو ٹھاکر گاؤں آئے اور تسلیم کیا کہ ان کے بیٹوں نے غلطی کی ہے اور بکراواپس کرنے کی پیشکش کی جس پر قیمت اور ریجھومل جا کربکراواپس لے آئے۔متاثرین کے مطابق متعدد بار چوریاں ثابت ہوئیں۔ ڈی ایس پی کے کہنے پر نیک مرد پڈو مل میگھواڑ نے بھی تحقیقات کیں اور تحریری طور پر پیرو ٹھاکر کے بیٹوں کو چور قرار دیا، مگر کوئی کارروائی نہ ہوئی۔ حال ہی میں دو دن پہلے دوبارہ گاؤں سے دو بکریاں چوری ہو گئیں۔

انہوں نے الزام لگایا کہ چوروں کو کس کی سرپرستی حاصل ہے، اسی لئے پولیس بھی ان کے خلاف کارروائی نہیں کرتی۔ متاثرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر ثابت شدہ چوروں کو سزا نہ دی گئی تو وہ ایس ایس پی آفس کے سامنے شدید احتجاج کریں گے۔

مزید خبریں

Back to top button