تھر کے پانی کا تحفظ،رائلٹی،زمین کا معاوضہ دیا جائے،تھری عوام

مٹھی (نمائندہ جانو ڈاٹ پی کے)تھر کلائمیٹ مارچ چھٹے روز تھر کے مختلف تعلقوں کلوئی، ڈیپلو، اسلام کوٹ، ننگرپارکر، چھاچھرو، چیلھار سے گزرتا ہوا مٹھی میں اختتام پذیر ہوا، جہاں درج ذیل مطالبات اکثریتی رائے سے منظور کیے گئے،کوئلے کی کانکنی اور اس سے متعلق تمام منصوبوں بجلی کی تیاری،ریلوے لائن، ڈمپنگ تالاب، ٹرانسمیشن کاریڈور اور دیگر غیر ذمہ دار صنعتی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی آلودگی اور سماجی و معاشی اثرات پر مکمل ضابطہ اور متاثرین کو انصاف دیا جائے۔ صاف اور محفوظ پینے کا پانی یقینی بنایا جائے اور زیرِ زمین پانی کو کوئلے کے گندے پانی، زہریلی نالیوں اور چائنا کلے/نمک کی کانوں کے فضلے سے بچایا جائے۔زیر زمین پانی کے تحفظ اور ریچارج کو بہتر بنایا جائے، اور گراؤنڈ واٹر پروٹیکشن و ریچارج ریگولیٹر قائم کر کے بارش کے پانی کی ذخیرہ اندوزی، ریچارج اور دیہی نگرانی کے نظام کو مضبوط کیا جائے۔دیہی زمینوں کے حقوق کا تحفظ کیا جائے اور کوئلہ بلاکوں، ریلوے لائن، ڈمپنگ پوائنٹس (گوڑانو، دکھرچو)، چائنا کلے/نمک کی کانوں اور صنعتی سرگرمیوں سے متاثرہ خاندانوں کو مناسب معاوضہ اور بحالی فراہم کی جائے۔کارونجھر پہاڑ کے مکمل ماحول، ثقافت اور حیاتیاتی تحفظ کے لیے اس کی کٹائی، بلاسٹنگ اور غیر قانونی کانکنی پر مکمل پابندی لگائی جائے ترقی کے نام پر ہونے والے غیر ضروری قبضے اور تجاوزات روکے جائیں اور زمین، مٹی، فطری رہائش گاہوں اور حیاتیاتی تنوع کا تحفظ کیا جائے درختوں کی کٹائی مکمل طور پر بند کی جائے اور تھرپارکر و ملحقہ علاقوں میں جنگلی حیات، چراگاہوں اور ماحولیات کے نظاموں کا تحفظ کیا جائے۔صحت کی بہتر سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ پانی اور صنعتی آلودگی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کا مؤثر علاج ہو سکے۔مقامی لوگوں کو روزگار میں ترجیح دی جائے اور کوئلہ، چائنا کلے/نمک کی کانوں اور صنعتی آلودگی سے ہونے والے نقصانات کا مکمل معاوضہ دیا جائے۔تمام کمپنیوں اور ٹھیکیداروں کو ماحول اور انسانی حقوق کے مطابق ذمہ دار صنعتکاری کے اصول اپنانے کا پابند بنایا جائے۔کوئلے اور اس سے متعلق نقصان دہ منصوبوں میں اضافہ بند کیا جائے اور عالمی و قومی موسمیاتی ایجنڈے کے مطابق صاف توانائی کی طرف منتقلی کو یقینی بنایا جائے۔کوئلے کی رائلٹی کو شفاف طریقے سے استعمال کیا جائے اور تھر ڈویلپمنٹ اتھارٹی قائم کر کے اسے پانی، صحت، تعلیم، ماحول اور ترقیاتی کاموں پر خرچ کیا جائے۔مون سون اور موسمی تبدیلی کے باعث بڑھتے حادثات سے بچنے کے لیے لائٹننگ اریسٹرز نصب کیے جائیں۔اینٹوں کے بھٹوں اور لکڑی جلانے والی صنعت (کپّن) میں ہنگامی بنیادوں پر ماحول دوست ٹیکنالوجی متعارف کرائی جائے اور ماحول کو نقصان پہنچانے والی صنعتوں کے متبادل روزگار پیدا کیے جائیں۔



