تھر بار کی جانب کامران ٹسوری کے بیان کی مذمت، ہڑتال کی اپیل

تھرپارکر(رپورٹ : میندھرو کاجھروی ، نمانئدہ جانوڈاٹ پی کے) مٹھی کی تھرپارکر بار ایسوسی ایشن نے صوبہ سندھ کے گورنر جناب کامران ٹیسوری کی جانب سے کراچی (دلِ سندھ) کے انتظامی مستقبل اور حیثیت سے متعلق حالیہ عوامی بیانات کا سنجیدگی سے نوٹس لیا ہے۔ مزید یہ کہ اس سلسلے میں گورنر ہاؤسٽ میں سرگرمیوں کے انعقاد کی بھی اطلاعات ہیں۔
یہ اقدامات آئینِ پاکستان 1973 کے آرٹیکل 239 کی خلاف ورزی معلوم ہوتے ہیں، جو کسی بھی صوبے کی علاقائی حیثیت میں ترمیم کے لیے طے شدہ طریقہ کار فراہم کرتا ہے۔ گورنر نے آئین کے تحفظ اور پاسداری کا حلف اٹھایا ہے، لیکن بظاہر انہوں نے اپنے آئینی اختیار کے برخلاف عمل کیا ہے۔
مزید برآں، سندھ اسمبلی بھی سندھ کی وحدت اور علاقائی سالمیت کے حق میں قرارداد منظور کر چکی ہے۔ اس پیش رفت کے پیش نظر گورنر کے عہدے پر برقرار رہنے کا کوئی جواز باقی نہیں رہتا۔ ہم صدرِ پاکستان اور وزیرِ اعظم پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ فوری نوٹس لے کر انہیں عہدے سے ہٹایا جائے۔
ایسوسی ایشن ان بیانات کی شدید مذمت کرتی ہے، جن سے قانونی برادری اور شہریوں میں شدید تشویش پیدا ہوئی ہے اور صوبے میں فرقہ وارانہ حساسیت کو ہوا ملنے کا خدشہ ہے۔
لہٰذا تھرپارکر بار ایسوسی ایشن مٹھی نے بطور احتجاج کل 24-02-2026 کو مکمل ہڑتال اور عدالتی کارروائیوں کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا ہے اور کوئی بھی وکیل کسی عدالت میں پیش نہیں ہوگا۔
تھرپارکر بار ایسوسی ایشن مٹھی معزز ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج تھرپارکر سے مؤدبانہ گزارش کرتی ہے کہ معزز وکلاء کی عدم موجودگی میں کوئی بھی منفی احکامات جاری نہ کیے جائیں.



