تھرپارکر میں شکاری سرگرم، نایاب ہرنوں کی نسل کشی،صوبائی وزیر کا نوٹس

مٹھی(رپورٹ:میندھرو کاجھروی/ جانو ڈاٹ پی کے)تھرپارکر میں شکاری سرگرم، نایاب ہرنوں کی نسل کشی، محکمہ جنگلی حیات روکنے میں ناکام، صوبائی وزیر نے نوٹس لے لیا۔تفصیلات کے مطابق ضلع تھرپارکر میں شکاریوں کے گروہ سرگرم ہیں اور آئے روز نایاب نسل کے ہرنوں کا شکار کیا جا رہا ہے۔ گزشتہ روز صوبائی وزیر سیاحت وثقافت ذوالفقار علی شاہ نے تھرپارکر میں غیر قانونی شکار کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی آئی جی میرپورخاص کو ہدایت کی کہ وہ نایاب نسل کے جانوروں کے غیر قانونی شکار کو روکنے کے لیے محکمہ وائلڈ لائف کے ساتھ مل کر گشت بڑھانے اور ناکہ بندی کریں۔ تاہم ان ہدایات کے باوجود سوشل میڈیا کے مطابق مٹھی تعلقہ کے گاؤں جوڑوو کے علاقے میں رات گئے دو ویگو گاڑیاں استعمال کی گئیں جن میں ایک ویگو وائٹ اور دوسری آدھی ہلکی کریم کلر کی گاڑیاں استعمال کی گئیں۔

 گزشتہ روز ننگرپارکر کے علاقے بہرانو میں ایک ہرن شکاری کے ہاتھوں بری طرح پھنس گیا۔ گاؤں والوں نے اسے دیکھا اور زخمی حالت میں متعلقہ محکمہ کے حوالے کر دیا۔ اس سے قبل ننگرپارکر میں سمتھ اور مامچیرو کے درمیان 5 ہرنوں کا شکار کیا گیا تھا۔ جس میں سے 4 ہرن کو شکاری ساتھ لے کر اور ایک کو زخمی حالت میں چھوڑ کر فرار ہو گئے جس کے خلاف احتجاج بھی کیا گیا تاہم کوئی مقدمہ درج نہیں کیا گیا، صوبائی وزیر کے نوٹس کے بعد 12ـ ملزمان پر مقدمہ درج ہو سکا۔ ننگرپارکر کی جنگلی حیات دوست برادری کا کہنا ہے کہ ایک ماہ قبل مامچیرو میں شکار کرنے والے شکاریوں کے سہولت کار مقامی بااثر افراد بچایا جا رہا ہے۔ ان مقامی سہولت کاروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔

ادھر کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ غیر قانونی شکار بھی پولیس کی نگرانی میں ہوتا ہے، یہ شکار سرکاری افسران، وزراء اور دیگر حکام کی عیاشیوں کے لیے کیا جاتا ہے، ایسے نوٹس اس وقت تک بیکار ہیں جب تک کہ مقامی لوگ خود ذمہ داری نہ لیں۔

دوسری جانب ننگرپارکر کی سوڈھا برادری نے فیصلہ کیا ہے کہ اب ہم اپنے جنگلات کی حفاظت خود کریں گے، اس لیے پھر ہمیں کوئی معیار نہیں دے، حکومت کو اپنی ذمہ داری ایمانداری سے ادا کرنے چاہئے۔

مزید خبریں

Back to top button