ڈاکٹرکی خودکشی،سول اسپتال مٹھی کے نشاندہی شدہ4ملازمین معطل،کمیٹی قائم،تحقیقات شروع

تھرپارکر(رپورٹ:میندھرو کاجھروی/جانوڈاٹ پی کے) سول اسپتال مٹھی میں گزشتہ دنوں ذہنی ٹارچر سے تنگ آ کر خودکشی کرنے والے گریڈ 19 کے سینئر ڈاکٹر عبدالکریم شیخ کی وصیت میں نامزد سول اسپتال کی انتظامیہ اور ملازمین کو سندھ کی صوبائی وزیر صحت عذرا پیچوہو نے معطل کر دیا ہے۔جبکہ تین رکنی جاچ کمیٹی قائم کردی گئی ہے۔
جس کے سربراہ ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروس حیدرآباد اور دو میمبر ایڈیشنل سیکریٹری ٹیکنیکل اینڈ ہیلتھ کراچی اور ریپریزنٹیٹو آف ڈپٹی کمشنر تھرپارکر شامل ہونگے۔ سندھ حکومت کی جانب کمیٹی کو ہدایت دی گئی ہے کہ 3 دن کے اندر ڈاکٹر عبدالکریم شیخ کی موت، نوٹ کی گئی وجوہات، میڈیکل آفیسروں پر لگائے گئے الزامات بابت رپورٹ پیش کی جائے۔
معطل کیے گئے ملازمین میں میل نرس منٹھار بھیل، میل نرس سردار بھیل، اسٹور کیپر برکت ہنگورجو، رجب اور دیگر شامل ہیں۔
اس حوالے سے بلاول ہاؤس کے ترجمان نے بتایا کہ وزیر صحت عذرا پیچوہو نے سول اسپتال مٹھی کے نشاندہی شدہ ملازمین کو معطل کر دیا ہے، جبکہ اس سلسلے میں باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
سندھ سرکار کی جانب تشکیل شدہ ٹہ رکنی کمیٹی تھرپارکر کے ہیڈ کوارٹر مٹھی شہر پہنچ گئی، جہاں ڈی ایچ او آفیس کے بند کمرے کے اندر ڈاکٹروں، چھوٹے ملازمین اور لوکل صحافیوں سے ملاقاتیں شروع کردی ہیں، جبکہ سینئر صحافی ممتاز نہڑیو سے ملاقات کرے مرحوم ڈاکٹر عبدالکریم شیخ کے آڈیو بیان، وصیت نامہ اور دیگر ثبوت کٹھے کیئے ہیں۔ ذرائعہ سے معلوم ہوا ہے کہ تحقیقات مکمل کرنے کے بعد واقعے میں ملوث ڈاکٹرز کے خلاف ایکشن لیا جائے گا۔



