تھرپارکر: میگھواڑ برادری کا بااثر افراد کی زیادتیوں کیخلاف عورتوں اور بچوں سمیت احتجاجی مظاہرہ

تھرپارکر(رپورٹ: میندھرو کاجھروی)گاؤں کھینسر کے رہائشی میگھواڑ برادری کے افراد نے اپنی ہی برادری کے بااثر لوگوں کی مبینہ زیادتیوں کے خلاف عورتوں اور بچوں سمیت احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے دھرنا دیا۔

اس موقع پر میاجل میگھواڑ، مادھو میگھواڑ، ڈلو مل، روشن، جگتو مل، دلیپ، گوردھن، تارو مل اور دیگر نے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ بااثر افراد الہبچایو بجیر اور دو گھر میگھواڑ مل کر ہمارے گھروں کے سامنے زبردستی اسلحے کے زور پر تعمیرات کر رہے ہیں اور مبینہ طور پر منشیات کا اڈہ قائم کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری زندگی اجیرن بنا دی گئی ہے۔ بااثر افراد کا کہنا ہے کہ وہ سید امیر علی شاہ کا بنگلہ تعمیر کر رہے ہیں۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ ہم مجبور ہو کر گاؤں سے بیس خاندان نقل مکانی کر کے گاڑیوں میں عورتوں اور بچوں سمیت پریس کلب پہنچے ہیں کیونکہ ہمارے ساتھ ظلم ہو رہا ہے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ گاؤں کے بااثر افراد اور پولیس بھی ان کے ساتھ ملی ہوئی ہے اور ہمارے جیسے غریبوں کی کوئی مدد نہیں کر رہا۔

انہوں نے کہا کہ ہم فریاد کرتے کرتے تھک گئے ہیں، اس لیے مجبور ہو کر آج پریس کلب کے سامنے انصاف کے لیے احتجاج کر رہے ہیں۔

ریجھو میگھواڑ، سُگن میگھواڑ، جگتو میگھواڑ، روشن میگھواڑ، سوائی میگھواڑ اور راجیش میگھواڑ نے مزید کہا کہ بااثر افراد ہمارے آنگن میں اوطاق تعمیر کرنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹر کھٹومل کو بھی فریاد کی گئی جس پر حدود کی پولیس موقع پر زمین کا معائنہ کر کے واپس چلی گئی۔

مظاہرین نے ایک بار پھر سائیں امیر علی شاہ جیلانی، دوست علی راہموں، رزاق راہموں، ڈاکٹر مہیش کمار ملاّنی، فقیر شیر محمد بلالانی اور سریندر ولاسائی سمیت تمام منتخب نمائندوں سے ہاتھ جوڑ کر اپیل کی کہ ہم یہاں برسوں سے مقیم ہیں، ہمیں اپنے گھروں سے بے دخل کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کر کے ہمیں انصاف فراہم کیا جائے۔

 

مزید خبریں

Back to top button