بی آئی ایس پی میں کٹوتیوں کے خلاف کارروائی کی جائے، بلاول ہاؤس کے ترجمان کا ایف آئی اے کو خط

تھرپارکر(رپورٹ : میندھرو کاجھروی، نمائندہ جانوڈاٹ پی کے)ضلع تھرپارکر میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کی قسطوں کے اجرا کے ساتھ ہی ریکارڈ کرپشن کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ 2500 سے 3500 روپے تک فی کارڈ کٹوتی کی عوامی شکایات موصول ہونے کے بعد بلاول ہاؤس کے ترجمان اور سندھ اسمبلی کے رکن ایم پی اے سریندر ولاسائی نے متعلقہ ادارے کو خط لکھ کر فوری کارروائی کی ہدایت کی ہے۔

ایم پی اے سندھ سریندر ولاسائی نے بی آئی ایس پی کے تحت غریب خواتین سے کی جانے والی ناجائز کٹوتیوں کے خلاف ایف آئی اے حیدرآباد زون کے ڈائریکٹر سید وسیم حیدر کو باقاعدہ تفصیلی خط ارسال کیا ہے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ میں آپ کی توجہ فوری نوٹس کے طور پر اس جانب دلانا چاہتا ہوں کہ سندھ خصوصاً ضلع تھرپارکر، جو صوبے کے غریب ترین اضلاع میں شمار ہوتا ہے، میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت اہل خواتین مستحقین کو کی جانے والی ادائیگیوں میں غیر قانونی کٹوتیوں کی بڑے پیمانے پر شکایات سامنے آ رہی ہیں۔

مزید کہا گیا ہے کہ ڈیوائس ہولڈرز، بعض سرکاری اہلکاروں اور بااثر نجی افراد کی ملی بھگت سے خواتین سے غیر قانونی رقوم کاٹی جا رہی ہیں، جو صریحاً کرپشن اور فراڈ کے زمرے میں آتی ہیں۔

سریندر ولاسائی نے امید ظاہر کی ہے کہ ایف آئی اے کی بروقت کارروائی سے غریب خواتین کو انصاف ملے گا اور عوامی فلاحی اداروں پر اعتماد بحال ہوگا۔

سریندر ولاسائی کی جانب سے خط لکھے جانے کے بعد ڈیوائس ہولڈرز نے قسط وصول کرنے والی مستحق خواتین کو سگنل کے مسائل، کیش نہ ہونے اور رقم نہ آنے جیسے بہانے بنا کر دربدر کرنا شروع کر دیا ہے۔

تھرپارکر کے سیاسی و سماجی رہنماؤں نے مطالبہ کیا ہے کہ جو ڈیوائس ہولڈرز ٹال مٹول کر رہے ہیں ان کے ڈیوائسز منسوخ کیے جائیں اور ایماندار افراد کو ڈیوائسز جاری کر کے غریب لوگوں کی پریشانی کا خاتمہ کیا جائے۔

مزید خبریں

Back to top button