تھرپارکر میں تعلیم تباہ، سرکاری دعوے جھوٹے، نگرپارکر کے قریب پرائمری اسکول 8 ماہ سے بند، طلبہ کا احتجاج

مٹھی (رپورٹ: میندھرو کاجھروی،نمائندہ جانوڈاٹ پی کے) تھرپارکر ضلع کے پسماندہ علاقوں اور دیہی حصوں میں تعلیم کا نظام بری طرح تباہ ہو چکا ہے اور سرکاری دعوے محض کاغذی ثابت ہو رہے ہیں۔ نگرپارکر تحصیل کی یونین کونسل ڈاڀو کے قریب گاؤں ٻاراچ کا گورنمنٹ بوائز مین پرائمری اسکول گزشتہ 8 ماہ سے بند پڑا ہے، جس کے باعث 100 سے زائد معصوم بچوں کا تعلیمی مستقبل خطرے میں پڑ گیا ہے۔

گزشتہ روز اسکول کے طلبہ اور گاؤں کے مکینوں نے ضلع کونسل کے رکن حضور بخش راڄڑ، ممتاز علی، دلبر حسین، صدام حسین، مراد علی، محمد صدیق، حسن میر خان، بلاول، امیر علی، محمد عاقل، کریم بخش اور نواب حاکم کی قیادت میں اساتذہ کی عدم تعیناتی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا اور شدید نعرے بازی کی۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ گزشتہ 8 ماہ سے اسکول میں کوئی استاد موجود نہیں، جس کے باعث معصوم بچوں کی تعلیم تباہ ہو رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سالانہ امتحانات قریب ہیں اور بچوں کا پورا تعلیمی سال ضائع ہونے کا خدشہ ہے، لہٰذا فوری طور پر اساتذہ تعینات کر کے گاؤں کی تعلیم کو بچایا جائے۔

گاؤں کے رہائشیوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ اس سنگین مسئلے کا فوری نوٹس لیا جائے۔ اس موقع پر ضلع کونسل کے رکن حضور بخش راڄڑ نے بتایا کہ انہوں نے تعلقہ ایجوکیشن آفیسر پرائمری میل نگرپارکر اشفاق حسین سوڍو سے رابطہ کیا ہے، جن کے مطابق اساتذہ کی تعیناتی کے لیے پروپوزل ارسال کر دیا گیا ہے، تاہم احکامات سیکریٹری تعلیم کی جانب سے جاری ہونے ہیں، اس کے علاوہ ان کے پاس کوئی اختیار نہیں۔

مزید خبریں

Back to top button