کلسٹر پالیسی میں سیڈو بوائز ہائے سکول کیساتھ ناانصافی کیخلاف احتجاج

مٹھی(رپورٹ: میندھرو کاجھروی)محکمہ تعلیم تھرپارکر کی جانب سے نافذ کی گئی کلسٹر پالیسی میں گاؤں سیڈیو کے بہترین تعلیمی ادارے یوسی گرڑابھ، تعلقہ کلوئی، گورنمنٹ بوائز ہائے اسکول سیڈو کو سیاسی بنیادوں پر نظر انداز کیا گیا ہے، جس کے خلاف دیہاتیوں، اسکول انتظامیہ اور طلباء نے ارباب مختیار کوآرڈینیٹر ہیومن رائٹس کونسل پاکستان کی قیادت میں اسکول کے گیٹ پر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ ریٹائرڈ ماسٹر محمد اشرف، ریٹائرڈ ماسٹر عبدالہادی، مولا بخش، رسول بخش، عطا محمد اور دیگر نے بھی شامل تھے۔
علاقہ کے اساتذہ اور والدین کے مطابق سیڈو سکول نہ صرف اپنی کارکردگی اور داخلوں کے حوالے سے آگے ہے بلکہ اپنے بہترین سٹاف اور تعلیمی ماحول کی وجہ سے ہمیشہ نمایاں رہا ہے۔ اس کے برعکس کلسٹر پالیسی کے تحت یوسی گر کے چھوٹے پرائمری اور ایلیمنٹری سکولوں جیسا کہ گورنمنٹ ایلیمنٹری سکول مبین موڑہ اور گورنمنٹ ایلیمنٹری سکول امیر سومرو، جن میں نہ تو مناسب عمارتیں ہیں، نہ داخلہ اور نہ ہی بنیادی سہولیات، کو سیاسی مداخلت کے ذریعے ’’حب کلسٹر سکول‘‘ قرار دیا گیا ہے۔
علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ ایسی پالیسی تعلیمی انصاف کے خلاف ہے جس سے نہ صرف سیڈو سکول کی حالت زار متاثر ہوئی ہے بلکہ پوری یوسی میں تعلیمی معیار بھی متاثر ہوگا۔
اس صورتحال میں والدین، اساتذہ اور سول سوسائٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ گورنمنٹ بوائز ہائی سکول سیڈو کو فوری طور پر علیحدہ اور خودمختار حب کلسٹر سکول کا درجہ دیا جائے۔



