تھرپارکر میں انتہاپسندی کی روک تھام کیلئے ضلعی اجلاس،اسکولوں اور مدارس میں سیمینارز کے انعقاد کا فیصلہ

تھرپارکر(رپورٹ:میندھرو کاجھروی/ جانو ڈاٹ پی کے)ڈپٹی کمشنر تھرپارکر عبدالحلیم جاگیرانی کی صدارت میں NPVE/CVE پالیسی کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ تھرپارکر ایک پُرامن ضلع ہے اور امن و امان کے فروغ کے لیے اسکولوں، کالجوں، مدارس سمیت دیگر مقامات پر سیمینارز کا انعقاد کیا جائے گا۔

ڈپٹی کمشنر تھرپارکر عبدالحلیم جاگیرانی کی زیرِ صدارت انتہاپسندی کی روک تھام اور امن و امان کی مجموعی صورتحال پر اجلاس ہوا، جس میں ایس ایس پی تھرپارکر محمد شعیب میمن، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ٹو تھرپارکر پرتھوی راج، ڈسٹرکٹ انفارمیشن آفیسر تھرپارکر یاسر نواز میمن، ضلع اور تعلقہ پریس کلبوں کے صدور، سوشل ویلفیئر، سول سوسائٹی، ایجوکیشن، مقامی تنظیموں کے نمائندگان سمیت دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر تھرپارکر عبدالحلیم جاگیرانی نے کہا کہ تھرپارکر ایک پُرامن ضلع ہے اور اس امن کو برقرار رکھنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔ تھرپارکر میں تمام مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگ آزادی کے ساتھ رہتے ہیں، اس بھائی چارے اور امن کو مزید مضبوط بنانا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضلع کو پُرامن رکھنے میں انتظامیہ کے ساتھ ساتھ تھرپارکر کی میڈیا کا بھی اہم کردار ہے۔ ڈپٹی کمشنر نے مزید کہا کہ ملک میں انتہاپسندی کے خاتمے کے لیے تمام اداروں کے درمیان قریبی رابطے کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے، اسی مقصد کے تحت اجلاس منعقد کر کے معلومات حاصل کی جا رہی ہیں تاکہ انتظامیہ، میڈیا اور دیگر ادارے مل کر امن و امان کی صورتحال بہتر بنا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ خاص طور پر غلط افواہیں پھیلانے اور امن و امان خراب کرنے والوں پر کڑی نظر رکھنے کی ضرورت ہے تاکہ ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ امن، برداشت، صبر اور بھائی چارے کے پیغام کو عام کیا جائے گا، اس ضمن میں تھرپارکر کے تمام اسکولوں، کالجوں، یونیورسٹی کیمپسز، مدارس اور دیگر مقامات پر سیمینارز منعقد کیے جائیں گے۔ اجلاس میں ایجوکیشن افسران کو ہدایت دی گئی کہ تعلقہ سطح پر اجلاس منعقد کر کے اسکولوں میں سیمینارز کو یقینی بنایا جائے، جن کی نگرانی تعلقہ اسسٹنٹ کمشنرز کریں گے، جبکہ ہر ہفتے سیمینارز سے متعلق رپورٹ پیش کی جائے گی۔ ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ ضلع میں رجسٹرڈ مدارس کے علما سے بھی اجلاس منعقد کیے جائیں گے اور مدارس میں بھی امن و امان سے متعلق پروگرامز کیے جائیں گے تاکہ یہ پیغام ہر فرد تک پہنچ سکے۔ انہوں نے سوشل ویلفیئر، مقامی این جی اوز اور سول سوسائٹی پر زور دیا کہ وہ اپنا بھرپور کردار ادا کریں اور جہاں بھی این جی اوز کے پروگرام ہوں وہاں امن و امان سے متعلق آگاہی دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ تھرپارکر کی میڈیا نے ہمیشہ امن و امان کے حوالے سے تعاون کیا ہے جو قابلِ تحسین ہے۔ اگر کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آئے تو فوری طور پر انتظامیہ کو آگاہ کیا جائے تاکہ بروقت کنٹرول کیا جا سکے۔

اس موقع پر ایس ایس پی تھرپارکر محمد شعیب میمن نے کہا کہ تھرپارکر کی میڈیا کا کردار مثبت اور مؤثر ہے، میڈیا کے تعاون سے ضلع میں بھائی چارہ اور امن و امان برقرار رکھا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تھرپارکر میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں، ضلع کے تمام داخلی راستوں، شہروں اور دیگر مقامات پر ہر وقت چیکنگ جاری ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی کڑی نظر رکھی جا رہی ہے اور اس کے غلط استعمال کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی، خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ ایس ایس پی نے کہا کہ امن و امان کی صورتحال پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ اجلاس میں تھرپارکر کے صحافیوں نے امن و امان اور میڈیا سے متعلق اپنی تجاویز پیش کیں، جن میں الیکٹرانک، پرنٹ اور سوشل میڈیا کی تجاویز شامل تھیں۔ تھرپارکر کے تمام صحافیوں نے امن و امان کے قیام کے لیے بھرپور تعاون اور بہترین کردار ادا کرنے کی یقین دہانی کرائی۔

مزید خبریں

Back to top button