ٹھٹہ: تھیلیسیمیا وارڈ میں بچوں کی جانیں خطرے میں، والدین نے محتسبِ اعلیٰ سندھ سے تحقیقات کا مطالبہ کر دیا

ٹھٹہ ( جاويد لطيف ميمن ،نمائندہ جانوڈاٹ پی کے)ضلع ٹھٹہ کے ہیڈکوارٹر مکلی میں قائم بڑے سول اسپتال ٹھٹہ کے تھیلیسیمیا وارڈ میں اسپتال انتظامیہ کی5 لاپرواہی کے باعث معصوم بچوں کو بروقت خون نہ ملنے کی وجہ سے ان کی زندگیاں ہمیشہ خطرے میں رہتی ہیں، بلکہ اب تو ان کی جانیں بھی ان کے جسم سے جدا ہو کر موت کی طرف بڑھنے لگی ہیں اس سلسلے میں ٹھٹہ شہر کے ايک رہائشی نے محتسبِ اعلیٰ سندھ کراچی کو تحریری درخواست دیتے ہوئے آگاہ کیا ہے کہ ضلع ٹھٹہ میں تقریباً 400 سے زائد تھیلیسیمیا کے بچے سول اسپتال مکلی کے تھیلیسیمیا وارڈ میں رجسٹرڈ ہیں، لیکن ان کی درست بلڈ اسکریننگ، باقاعدہ طبی ٹیسٹ، فالو اپ اور نگرانی کی کمی کے باعث کئی معصوم بچے جان کی بازی ہار چکے ہیں انہوں نے بتایا کہ تھیلیسیمیا وارڈ میں عملے اور ڈاکٹروں کی سنگین غفلت کے باعث بروقت محفوظ خون کی فراہمی یقینی نہیں بنائی جا رہی، نہ ہی باقاعدہ فالو اپ کیا جاتا ہے اور نہ ہی والدین کو بیماری کے بارے میں درست رہنمائی فراہم کی جاتی ہے۔ یہ تمام عمل بدانتظامی، نااہلی اور انسانی جانوں کے ساتھ سنگین زیادتی کے زمرے میں آتا ہے، جو محتسبِ اعلیٰ کے دائرہ اختیار میں قابلِ تحقیق ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ فوت ہونے والے بچوں کی اموات کی فوری اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں اور ذمہ دار ڈاکٹروں اور عملے کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔ تھیلیسیمیا وارڈ میں ماہر ڈاکٹروں، جدید ٹیسٹ کی سہولیات اور محفوظ خون کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے افسوسناک واقعات سے بچا جا سکے اور ایک بہتر نگرانی کا نظام قائم کیا جائے۔

مزید خبریں

Back to top button