عام شہریوں کوتیزاب کی فروخت بند،تیزاب گردی کا4ماہ میں ٹرائل مکمل،متاثرین کی بحالی کیلئےفنڈقائم،سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے)سپریم کورٹ نے تیزاب گردی کے مجرم عبدالمنان کی کم عمری کی بنیاد پر نرمی کی اپیل مسترد کرتے ہوئے عمر قید کی سزا برقرار رکھنے کا فیصلہ دے دیا، سپریم کورٹ نے تاریخی فیصلہ دیا کہ ہائی کورٹس تیزاب گردی کے کیسز کا ٹرائل ہر صورت 4 ماہ میں مکمل کریں عام شہریوں کو تیزاب کی کھلی فروخت پر مکمل پابندی لگائی جائے، حکومت تیزاب کے متاثرین کے لیے "قومی بحالی فنڈ” قائم کرے۔جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں جسٹس صلاح الدین پنہور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل بینچ نے سماعت کی۔ کیس کا 13صفحات پر مشتمل فیصلہ جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے تحریر کیا۔عدالت نے فیصل آباد کی خاتون اقرا پروین پرتیزاب پھینکنے والے عبدالمنان کی درخواست خارج کردی۔ سپریم کورٹ نے مجرم عبدالمنان کی عمر قید کا فیصلہ برقرار رکھا۔ عدالت کا متاثرہ خاتون کو10لاکھ روپے معاوضہ دینے کا حکم دے دیا۔

جرم میں کم عمری کی ڈھال استعمال نہیں ہوسکتی، تیزاب کا حملہ قتل سے بھی زیادہ ہول ناک جرم ہے،سپریم کورٹ

سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ وحشیانہ اور پہلے سے منصوبہ بندی کیے گئے جرم میں کم عمری کی ڈھال استعمال نہیں ہوسکتی، تیزاب کا حملہ قتل سے بھی زیادہ ہول ناک جرم ہے، قتل انسان کو ایک بار ختم کرتا ہے، تیزاب کا شکار شخص روز مرتا اور "زندہ لاش” بن جاتا ہے، سپریم کورٹ نے مجرم عبد المنان کو متاثرہ لڑکی کو 10 لاکھ روپے معاوضہ ادا کرنے کا حکم دے دیا۔

تیزاب کا شکار شخص روز مرتا اور "زندہ لاش” بن جاتا ہے،سپریم کورٹ

عدالت نے ہائی کورٹس کو ہدایات جاری کی ہیں کہ تیزاب گردی کے کیسز کا ٹرائل ہر صورت 4 ماہ میں مکمل کیا جائے، عام شہریوں کو تیزاب کی کھلی فروخت پر مکمل پابندی لگائی جائے، تیزاب کی خرید و فروخت کے لیے بائیومیٹرک اور ڈیجیٹل سسٹم قائم کیا جائے، حکومت تیزاب کے متاثرین کے لیے "قومی بحالی فنڈ” قائم کرے، تیزاب حملے کے مستقل متاثرین کو معذوری سرٹیفکیٹ اور سرکاری نوکریوں میں کوٹا دیا جائے، ہائی کورٹس تیزاب گردی کے کیسز کی خود نگرانی کریں، قانون کے مطابق تیزاب گردی کے مقدمات کا فیصلہ ہر صورت 4 ماہ میں یقینی بنایا جائے، متاثرین کو مزید ذہنی اذیت سے بچانے کے لیے تیز رفتار ٹرائل ناگزیر ہے۔

عام دکانوں پر تیزاب کی کھلی اور غیر قانونی فروخت پر فوری اور مکمل پابندی لگائی جائے،عدالت عظمیٰ

عدالت نے فیصلے میں لکھا کہ عام دکانوں پر تیزاب کی کھلی اور غیر قانونی فروخت پر فوری اور مکمل پابندی لگائی جائے، تیزاب کی خرید و فروخت کی نگرانی کے لیے فوری طور پر "مرکزی ڈیجیٹل سسٹم” قائم کیا جائے، تیزاب خریدنے والے کا نام، شناختی کارڈ اور بائیومیٹرک (انگوٹھے کا نشان) لینا لازمی قرار دیا جائے، حکومت تیزاب کے متاثرین کے لیے "قومی بحالی فنڈ” (National Acid Survivors’ Rehabilitation Fund) قائم کرے۔

تیزاب کے حملے سے شدید متاثرہ افراد کو باقاعدہ "معذوری سرٹیفکیٹ” جاری کیے جائیں،ماہانہ وظیفہ دیا جائے،عدالت

عدالت نے قرار دیا کہ متاثرین کی پلاسٹک سرجری اور نفسیاتی علاج کے تمام اخراجات حکومت برداشت کرے، مستقل معذور یا بیروزگار ہو جانے والے متاثرین کے لیے ماہانہ وظیفہ مقرر کیا جائے،تیزاب کے حملے سے شدید متاثرہ افراد کو باقاعدہ "معذوری سرٹیفکیٹ” جاری کیے جائیں، متاثرین کو سرکاری نوکریوں، تعلیمی اداروں اور فلاحی اسکیموں میں خصوصی کوٹہ دیا جائے، تیزاب گردی کے متاثرین کی سوشل ڈیتھ سے نمٹنے کے لیے نفسیاتی اور سماجی بحالی کے اقدامات کرے، تیزاب گردی کے متاثرین کے معاشی تحفظ کیلئے ماہانہ معاوضہ مقرر کیا جائے، قومی بحالی ہدایات مرتب کی جائیں جن میں متاثرین کی تاعمر علاج و بحالی مختص فنڈز سے ہوسکے۔

مزید خبریں

Back to top button