سانحہ ترلائی اسلام آباد کیخلاف مجلس وحدت مسلمین سکھر کا احتجاجی مظاہرہ

سکھر(بیورورپورٹ)مجلس وحدت مسلمین پاکستان ضلع سکھر کے زیرِ اہتمام اسلام آباد کی مسجد خدیجتہ الکبریٰؑ (ترلائی) میں پیش آنے والے دہشتگردی کے المناک واقعے کے خلاف سکھر پریس کلب کے سامنے ایک بھرپور احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرے میں شہداء کی یاد میں شمعیں روشن کی گئیں جبکہ دہشتگردی، فرقہ واریت اور تکفیری سوچ کے خلاف شدید نعرے بازی کی گئی۔احتجاجی مظاہرے میں علمائے کرام، ڈاکٹرز، وکلاء، طلبہ، تاجر برادری سمیت بزرگوں، خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ شرکاء نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر دہشتگردی کے خاتمے، عبادت گاہوں کے تحفظ اور بے گناہ نمازیوں کے قتل کے خلاف سخت مطالبات درج تھے۔
مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے مجلس وحدت مسلمین کے صوبائی عہدیدار چوہدری اظہر حسن نے کہا کہ ترلائی مسجد میں ہونے والا دھماکہ تکفیری دہشتگردی کے تسلسل کی ایک واضح کڑی ہے، جس کا مقصد اہل تشیع سمیت تمام پُرامن مسلمانوں کو خوفزدہ کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسجد جیسے مقدس مقام کو نشانہ بنانا پوری انسانیت کے خلاف سنگین جرم ہے اور یہ ملک میں فرقہ واریت پھیلانے کی منظم سازش کا حصہ ہے۔ انہوں نے حکومت اور سیکیورٹی اداروں سے مطالبہ کیا کہ دہشتگرد گروہوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جائے اور عبادت گاہوں کو حقیقی معنوں میں تحفظ فراہم کیا جائے۔اس موقع پر مجلس وحدت مسلمین ضلع سکھر کے صدر محسن سجاد اتراء ایڈووکیٹ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے، مگر بار بار پیش آنے والے ایسے واقعات ریاستی کمزوری کی عکاسی کرتے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ دہشتگردوں اور ان کے سہولت کاروں کو فوری طور پر قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور متاثرہ خاندانوں کو انصاف فراہم کیا جائے۔دیگر مقررین جن میں احسان علی شر ایڈووکیٹ اور سید کاشف شاہ نقوی شامل تھے، نے کہا کہ شہداء کا خون ہم سے بیداری، اتحاد اور مزاحمت کا تقاضا کرتا ہے اور اس سنگین ظلم پر خاموشی مجرمانہ غفلت کے مترادف ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ دہشتگردی اور تکفیری فتنہ کے خلاف جدوجہد ہر حال میں جاری رکھی جائے گی۔مظاہرے کے اختتام پر شہداء کے درجات کی بلندی، لواحقین کے لیے صبرِ جمیل اور ملکِ پاکستان میں امن و سلامتی کے قیام کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔شرکاء نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ دہشتگردی اور فرقہ وارانہ نفرت کے خلاف ان کی آواز ہمیشہ بلند رہے گی۔



