اسلام آباد ہائیکورٹ نے طارق جہانگیری کو برطرف کرنے کا تحریری فیصلہ جاری کردیا

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے)اسلام آباد ہائی کورٹ نے طارق محمود جہانگیری کو بطور جج برطرف کرنےکے تفصیلی فیصلے میں لکھا ہے کہ عدلیہ کی آزادی کا مطلب احتساب سے بالاتر اور مقدس ہونا نہیں، اہلیت اورقابلیت میں نقص یا دھوکہ دہی پرجج منصب پر رہنے کا حقدار نہیں، ایسے شخص کو قانوناً فوری طورپر عہدے سے الگ کیا جانا چاہیے، ایسی برطرفی عدلیہ کی آزادی برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر اور جسٹس محمد اعظم خان نے اپنے ساتھی جج جسٹس طارق محمود جہانگیری کو بطور جج عہدے سے برطرف کرنےکا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا ہے۔
116 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جسٹس اعظم خان نے تحریر کیا۔ تفصیلی فیصلے میں کہا گیا ہےکہ احتساب اداروں کو کمزور نہیں مضبوط کرتا ہے۔ آزاد، اہل اورقابل اعتماد عدلیہ کے بغیر انصاف تک رسائی کا حق محض سراب ہے۔ عدالتیں ججوں کی سہولت کے لیے نہیں، معاشرے کے فائدے کے لیے بنائی گئی ہیں۔ غیرقانونی منصب کی بنیاد پر پورا عدالتی ڈھانچہ کمزور ہوجاتا ہے۔ عدالتی ڈھانچہ کمزور ہو تو سائلین کا اعتماد مجروح ہوتا ہے۔
ٖفیصلے میں کہا گیا ہےکہ ججوں کی شفاف طریقے سے تقرری بنیادی حق انصاف کے تحفظ کا لازمی جزو ہے۔ عدلیہ میں آئینی معیارات کے نفاذ سے عدالتیں اپنی آزادی کا تحفظ کرتی ہیں۔ انتظامی منظوری یا بعد کی توثیق بنیادی اہلیت کا متبادل نہیں۔ وکیل کا لائسنس بنیادی تعلیم نقص دور نہیں کرسکتا۔ درست اور قانونی ایل ایل بی ڈگری نہ ہو تو تقرری ابتدا سے باطل ہوگی۔ غلط تقرری کو بعدکی انتظامی کاروائیوں سے درست نہیں کیا جاسکتا۔ عوامی عہدہ صرف قانونی اہلیت رکھنے والا شخص ہی سنبھال سکتا ہے۔ طارق جہانگیری کی بطور جج تقرری کالعدم قرار دی جاتی ہے۔



