پاک فوج نےافغان طالبان کی عقل ٹھکانے لگا دی

​مانیٹرنگ ڈیسک (جانو ڈاٹ پی کے)​پاکستان کی جانب سے جاری ‘آپریشن غضب الحق’ کے بعد افغان طالبان کے سخت موقف میں اچانک بڑی تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق افغان وزیرِ خارجہ امیر خان متقی نے متحدہ عرب امارات کی قیادت سے رابطہ کر کے پاکستان کے ساتھ تمام معاملات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔ یہ تبدیلی ایک ایسے وقت میں آئی ہے جب کابل کے انتہائی حساس ‘ریڈ زون’ میں ایک پراسرار گوریلا کارروائی کے نتیجے میں 40 کے قریب دہشت گرد ہلاک ہو چکے ہیں۔

​سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹی ٹی پی کا سرغنہ نور ولی محسود، جسے کابل کے ریڈ زون میں غیر ملکی سفارت خانوں کے قریب ایک محفوظ مقام پر چھپایا گیا تھا، اب شدید خطرے میں ہے۔ کابل میں ہونے والی حالیہ کارروائی نے افغان طالبان کو یہ واضح پیغام دیا ہے کہ پاکستان کے مطلوبہ دہشت گرد اب افغانستان کے کسی بھی کونے میں محفوظ نہیں ہیں۔

​میدانِ جنگ کی صورتحال یہ ہے کہ پاکستان نے اپنی نئی سرحدی پالیسی کے تحت ژوب سیکٹر میں 32 مربع کلومیٹر افغان رقبے پر قبضہ کر کے وہاں نئی باڑ (Fencing) لگا دی ہے، جبکہ خیبر پختونخوا کی جانب مزید 50 مربع کلومیٹر رقبے کو سیکیور زون بنانے کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ پاکستان نے واضح کر دیا ہے کہ اگر افغانستان سے دہشت گردی ایکسپورٹ ہو گی، تو پاکستان سرحد پار جا کر کارروائی کرے گا۔ اس نئی پالیسی کے نتیجے میں پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں 60 سے 65 فیصد تک کمی واقع ہوئی ہے۔

YouTube player

مزید خبریں

Back to top button