بھارت کیخلاف میچ کا بائیکاٹ، کیا آئی سی سی پاکستان کا 34ملین ڈالر روکنے کی طاقت رکھتا ہے؟

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے)پاکستان ورلڈ کپ کے میدان میں تو اتر رہا ہے لیکن اگر وہ 15 فروری کو بھارت کے خلاف میچ نہ کھیلنے کا سخت فیصلہ کر لے تو کیا آئی سی سی واقعی پاکستان کا ساڑھے چونتیس ملین ڈالر کا ریونیو روکنے کی طاقت رکھتا ہے؟ یہ دھمکی بظاہر جتنی سنگین دکھائی دیتی ہے، حقیقت میں اس کی قانونی اور اخلاقی بنیادیں اتنی ہی کمزور ہیں۔
پاکستان کا مؤقف بڑا واضح ہے کہ کرکٹ یکطرفہ نہیں ہو سکتی اور اگر کوئی ملک پاکستان آ کر کھیلنے سے انکاری ہے تو پاکستان کو بھی اپنے وقار کی خاطر سخت فیصلے لینے کا پورا حق ہے۔
اس معاملے میں پاکستان کا حالیہ فیصلہ دراصل بھارت کی اس "چوہدراہٹ” کے خلاف ایک اعلانِ جنگ ہے جو وہ کرکٹ کی دنیا پر مسلط کرنا چاہتا ہے۔ جب بنگلا دیش نے سیکیورٹی خدشات کے باوجود بھارت سے باہر یعنی سری لنکا میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کھیلنے کی خواہش ظاہر کی تو بھارت نے ہٹ دھرمی دکھاتے ہوئے انہیں اپنے ملک سے باہر کھیلنے کی اجازت دینے سے صاف انکار کر دیا۔
پاکستان نے اس موقع پر نہ صرف بنگلا دیش کے ساتھ بھرپور یکجہتی کا اظہار کیا بلکہ بھارت کے اس دوہرے معیار کو بے نقاب کرنے کے لیے 15 فروری کا میچ نہ کھیلنے کا جرات مندانہ فیصلہ کر لیا ہے تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ کرکٹ کسی ایک ملک کی جاگیر نہیں ہے۔



