تھرپارکر: انسانی حقوق کیلئے آواز اٹھانے پرسریندر ولاسائی کو جان سے مارنے کی دھمکیاں،اعلیٰ حکام سے تحفظ کا مطالبہ

وزیر اعلیٰ سندھ اور آئی جی سندھ کا سریندر ولاسائی سے رابطہ، حفاظتی اقدامات اور مقامی حقوق کی بحالی کی یقین دہانی

مٹھی (رپورٹ: میندھرو کاجھروی) تھرپارکر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، سود خوری، ذات پات کی تفریق، منشیات کی اسمگلنگ، سماجی عدم مساوات، دیوی کے مقدس درختوں کی لکڑی کی غیر قانونی فروخت اور خواتین و بچوں پر مظالم کے خلاف مسلسل جدوجہد کرنے والے بلاول ہاؤس کے ترجمان اور سماجی رہنما سریندر ولاسائی کو مبینہ طور پر بالواسطہ اور پوشیدہ جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔

سریندر ولاسائی کے مطابق معتبر ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ ارباب محمد عالم نے دو افراد بچو اور صالح ہالو کو ڈھوڈھارو اوطاق میں بلا کر انہیں کسی جھگڑے میں پھنسانے کا منصوبہ بنایا، جو بالآخر ان کے قتل کا سبب بن سکتا ہے۔

چند ہفتے قبل ارباب عالم نے گاؤں ڈونڈڑی کا دورہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ دیوی کے درختوں کی لکڑی ان کے ساتھیوں کو تجارتی فروخت کے لیے الاٹ کی جا چکی ہے، جس سے مقامی دیہاتیوں کو ان کے روایتی اور معاشی حقوق سے محروم کیا گیا۔ اس حوالے سے سریندر ولاسائی نے 22 دسمبر 2025 کو چیف سیکریٹری سندھ کو تحریری طور پر آگاہ بھی کیا تھا۔

بعد ازاں بچو نے ان کے ماموں ہرجی مل کے زیرِ تعمیر مکان پر مبینہ زبردستی قبضے کی کوشش کی، جو اس کے بیٹے کی مداخلت کے بعد ناکام ہوئی۔ تاہم ہفتے کے روز بچو دوبارہ موقع پر پہنچا اور مبینہ طور پر دھمکی دی کہ اگر پلاٹ نہ دیا گیا تو سریندر ولاسائی کو قتل کر دیا جائے گا۔ پیر کے روز ولی عامر، جو مبینہ طور پر منشیات فروش اور ارباب عالم کا فرنٹ مین بتایا جاتا ہے، اسی مقام پر پہنچا اور اہلِ خانہ کو دھمکیاں دیں۔

سریندر ولاسائی نے ماضی میں پولیس کی مدد سے دو کمسن لڑکیوں، ساجدہ ہالو اور دعا نوہڑیو، کو زبردستی شادی سے بچایا تھا، جس کے بعد بعض بااثر حلقوں میں ان کے خلاف ناراضگی پیدا ہوئی۔ اس کے علاوہ انہوں نے اینٹوں کے بھٹہ مزدوروں کے حقوق کے لیے آواز اٹھائی اور مبینہ ناانصافیوں کے خلاف جدوجہد کی، جس کی فیکٹ فائنڈنگ سندھ ہیومن رائٹس کمیشن کی کمیٹی بھی کر چکی ہے۔

انہوں نے ایس ایس پی تھرپارکر کو مبینہ پرائیویٹ وائلنس سیل کے بارے میں بھی تحریری طور پر آگاہ کیا تھا، جہاں ایک متاثرہ شخص بھگو جی ٹھاکر کو تشدد کا نشانہ بنا کر تاوان وصول کیا گیا، جو بعد میں ان کی مداخلت پر واپس ہوا۔

سریندر ولاسائی کا کہنا ہے کہ فی الحال وہ فوری قانونی کارروائی نہیں چاہتے، تاہم انہوں نے درخواست کی ہے کہ ان کی شکایت کو آئی جی سندھ اور متعلقہ حکام کے ریکارڈ میں شامل کیا جائے تاکہ کسی بھی مستقبل کے واقعے کی صورت میں حقائق سامنے آ سکیں۔ انہوں نے ایس ایس پی تھرپارکر سے مطالبہ کیا ہے کہ ممکنہ تنازعات کو سنگین صورت اختیار کرنے سے پہلے روکا جائے اور ضرورت پڑنے پر حفاظتی اقدامات بڑھائے جائیں۔

وزیر اعلیٰ سندھ اور آئی جی سندھ کا سریندر ولاسائی سے رابطہ، حفاظتی اقدامات اور مقامی حقوق کی بحالی کی یقین دہانی

دوسری جانب وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے فون پر سریندر ولاسائی سے رابطہ کر کے مکمل تفصیلات حاصل کیں اور یقین دہانی کرائی کہ تھرپارکر میں منشیات کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی جبکہ دیوی ووڈ پر مقامی آبادی کے حقوق بحال کیے جائیں گے۔

مزید خبریں

Back to top button