سپریم کورٹ کے باہر پی ٹی آئی کا دھرنا، سلمان اکرم راجا کی چیف جسٹس سے ملاقات کے بعد احتجاج ختم

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے)وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی اور دیگر پی ٹی آئی رہنماؤں نے چیف جسٹس سے ملنے کے لیے سپریم کورٹ کے باہر دھرنا دیا، سلمان راجا کی چیف جسٹس سے ملاقات ہوگئی جس پر دھرنا ختم کردیا گیا۔
میڈیا نیوز کے مطابق تحریک انصاف کی قیادت چیف جسٹس یحییٰ آفریدی سے ملاقات کے لیے سپریم کورٹ پہنچی، سلمان اکرم راجا اور لطیف کھوسہ کی رجسٹرار سپریم کورٹ سے ملاقات ہوئی جو 10 منٹ جاری رہی۔
سلمان اکرم راجا اور لطیف کھوسہ کی رجسٹرار سے ملاقات کے بعد اٹارنی جنرل سے ملاقات ہوئی۔
کچھ دیر بعد وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی بھی سپریم کورٹ کے باہر پہنچ گئے۔ شفیع جان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سے ملاقات کرنے کے لیے آئے ہیں، آئینی عدالت جانا پڑا تو وہاں بھی جائیں گے۔
سپریم کورٹ کے اندر اور باہر سیکیورٹی اہل کاروں کی اضافی نفری تعینات ہے جبکہ سیکیورٹی کے مدنظر مزید قیدی وین سپریم کورٹ کے باہر پہنچا دی گئیں۔
دھرنے میں سینیٹ کے اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس بھی پہنچ گئے، پی ٹی آئی کارکنوں نے سپریم کورٹ کے باہر نعرے بازی کی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت نے بانی پی ٹی آئی کے ذاتی معالج کو اڈیالہ بھیجنے سے انکار کردیا ہے، پی ٹی آئی کی جانب سے نجی اسپتال کے دو ڈاکٹرز کا نام دیا گیا ہے۔
پی ٹی آئی نے مطالبہ کیا ہے کہ نجی اسپتال کے دو ڈاکٹرز کو بانی پی ٹی آئی کے چیک اپ کے لیے بھیجا جائے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت دو پرائیوٹ ڈاکٹرز کے ناموں پر غور کر رہی ہے۔
سلمان راجا کی چیف جسٹس سے ملاقات
ذرائع کے مطابق تحریک انصاف کے رہنما سلمان اکرم راجہ کی چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی سے ملاقات ہوئی ہے جو کہ تیس منٹ سے زائد تک جاری رہی۔
ملاقات میں سلمان اکرم راجہ نے چیف جسٹس کو پی ٹی آئی کے تحفظات کے بارے میں آگاہ کیا۔
ملاقات کے بعد میڈیا سے گفت گو میں سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ہم صبح سے سپریم کورٹ کے باہر موجود ہیں، کل رات ہم تین بجے تک اڈیالہ جیل کے کے باہر موجود رہے، بانی پی ٹی آئی کی صحت سے آگے ہمیں کچھی قبول نہیں، فسطائی نظام بانی کو جیل سے سپتال لے کر جاتا ہے پانچ دن تک جھوٹ بولا جاتا ہے۔
سلمان راجا نے کہا کہ آج چیف جسٹس اور اٹارنی جنرل سے ملاقاتیں ہوئیں، کہا گیا ہے پمز اسپتال میں جو ہوا اور جیل میں جو ہوا اس کی ایک ایک رپورٹ بانی پی ٹی آئی کو دے دی جائے گی، یہ رپورٹ ہمارے سامنے آئے گی تو خاندان فیصلہ کرے گا یہ تسلی بخش ہے یا نہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے بانی پی ٹی آئی ناحق قید ہیں، انہیں رہا کیا جائے، جب تک مقدمات ختم نہیں ہوتے انہیں فیملی اوررفقاء تک رسائی دی جائے، آگے کا لائحہ عمل کیا ہوگا اس کیلئے آج سیاسی کمیٹی کا اجلاس آج ہوگا، علامہ راجہ ناصر اور محمود اچکزئی کی سربراہی میں ہماری سیاسی کمیٹی اگلا فیصلہ کرے گی، ہماری کوشش ہماری تحریک جاری رہے گی۔
علامہ راجہ ناصر عباس
علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ ہر شخص کے بنیادی حقوق ہیں جنہیں ختم کرنا ظلم ہے، اس وقت ظالم حکمران ہیں، ظالم نااہل ہوتا ہے، یہ غاصب ہیں جو غیرآئنی کام کررہے ہیں، بانی پی ٹی آئی کو جیل میں بند رکھنا ڈرٹی پالیکٹکس ہے، یہ قابل مذمت ہے، دنیا دیکھ رہی ہے ہمارا عدالتی نظام کتنا کمزور ہوچکا ہے، عدالتی حکم کے باوجود فیملی اور رفقاء کو ملنے نہیں دیا جاتا، عوامی جدوجہد کے ذریعے ہی ہم اس نظام کو ڈھائیں گے، بانی پی ٹی آئی کو جیل میں رکھنا پاکستان کیساتھ دشمنی ہے، اس وقت کوئی بھی شخص پاکستان کو جمع کرسکے۔
سہیل آفریدی
وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ کل ہم اڈیالہ جیل رات تین بجے تک رہے، ہم صبح دس بجے سے یہاں پر ہیں، ہمیں کہا جاتا تھا سیاسی ملاقاتیں بند ہیں، بانی پی ٹی آئی کی صحت کے حوالے سے طبی دہشت گردی اور غفلت کی گئی ہے، انہیں ایسے اسپتال لایا جاتا ہے جہاں اس مرض کا ڈاکٹر ہی نہیں ہے، پانچ دن جھوٹ کے بعد ایک وزیر کہتا ہے ان کا آپریشن ہوا ہے، ہم چاہتے ہیں بانی کے ذاتی معالج ان سے ملیں ڈاکٹرز قوم کو بتادیں گے کہ ان کی صحت کیسی ہے مگر ڈاکٹرز کی ملاقات سے انکار کیا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ نظام مفلوج اور بے حس ہوچکاہے، یہ نظام جمہوری نظام کی قدر نہیں کررہا، ایک صوبے کے وزیراعلی کو سڑکوں پر خوار کیا جارہا ہے، ایک وزیراعلی کو ائیر فورس کا جہاز دے کر دنیا گھمائی جارہی ہے، حالات کو اس طرف کے جایا جارہا ہے جہاں سے واپسی ناممکن ہوگی، سارے دروازے بند کیے جائیں تو آئین ہمیں پرامن احتجاج کا حق دیتا ہے، ڈاکٹر سے ملوانے کے حوالے سے ہمیں جواب نہ میں دیا گیا ہے، سیاسی کمیٹی اجلاس میں آگے کا لائحہ عمل طے کریں گے، 8 فروری کا احتجاج کا اعلان موجود ہے۔
پی ٹی آئی رہنماؤں نے سپریم کورٹ کے باہر سے دھرنا ختم کردیا۔



