اسرائیل نے گریٹا تھنبرگ سمیت مزید 171 رضاکاروں کو رہاکر دیا

341 رضاکارکو ملک بدر کیا جا چکے ہے جبکہ 138 اب بھی زیر حراست ہیں

تل ابیب(jano.pk)اسرائیل نے سمود فوٹیلا کے گرفتار500رضاکاروں میں سے مزید 171 افرا د کو رہاکرکے ان کے ملک واپس بھیج دیا۔ رہا ہونیوالوں میں سویڈن کی عالمی شہرت یافتہ ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ بھی شامل ہیں۔ اسرائیلی وزارت خارجہ کے مطابق ان افراد کو جنوبی اسرائیل کے رامون انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے یونان اور سلواکیہ بھیجا گیا۔

341 رضاکارکو ملک بدر کیا جا چکے ہے جبکہ 138 اب بھی زیر حراست ہیں

مجموعی طور پر341 رضاکار ملک بدر کیے جا چکے ہیں جبکہ 138 اب بھی زیر حراست ہیں۔آج جن رضاکاروں کو ملک بدر کیا ہے ان میں سویڈن کی عالمی شہرت یافتہ ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ بھی شامل ہیں۔گریٹا تھنبرگ سمیت کئی رضاکاروں نے اسرائیل پر الزام عائد کیا کہ انھیں غیر قانونی حراست اور غیر انسانی حالات میں رکھا گیا اور ان کی بنیادی آزادیوں کو سلب کیا گیا۔

ادھر اسرائیلی حکام نے الزام عائد کیا ہے کہ حراست کے دوران ایک ہسپانوی رضاکار نے جیل میں ایک طبی عملے کو کاٹ لیا تھا۔اسرائیلی حکام نے بتایا کہ اب تک مجموعی طور پر 341 رضاکار ملک بدر کیے جا چکے ہیں جبکہ 138 اب بھی زیر حراست ہیں۔

ملک بدر کیے جانے والوں کا تعلق یونان، اٹلی، فرانس، آئرلینڈ، سویڈن، پولینڈ، جرمنی، بلغاریہ، لتھوانیا، آسٹریا، لگزمبرگ، فن لینڈ، ڈنمارک، سلواکیہ، سوئٹزرلینڈ، ناروے، برطانیہ، سربیا اور امریکا سے ہے۔

یاد رہے کہ ’’صمود فلوٹیلا‘‘ 43 کشتیوں پر مشتمل قافلہ تھا جو 27 ستمبر 2025 کو ترکیہ اور یونان کے بندرگاہوں سے روانہ ہوا۔ان کشتیوں میں المہ، سیریئس، فریڈم، الکریم اور ہوپ شامل تھیں، جن پر یورپ اور امریکا سمیت 20 سے زائد ممالک کے 500 سے زیادہ کارکن سوار تھے۔ان کا مقصد غزہ کے لیے انسانی امداد پہنچانا اور اسرائیلی محاصرے کے خلاف عالمی توجہ مبذول کرانا تھا۔

یہ سفر تقریباً ایک ہفتے جاری رہا لیکن اسرائیلی بحریہ نے یکم اکتوبر 2025 کو بحیرۂ روم میں ان کشتیوں کو روک لیا اور سب رضاکاروں کو حراست میں لے کر قید خانوں میں منتقل کر دیا۔

مزید خبریں

Back to top button