سکھر: سول اسپتال میں جدید ٹراما سینٹر اور آرتھوپیڈک وارڈ کی بہتری کے لیے عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا

سکھر(جانوڈاٹ پی کے)سندھ ہائی کورٹ سکھر بینچ میں سول اسپتال سکھر میں ٹراما سینٹر کے قیام اور آرتھوپیڈک وارڈ کی خستہ حالی سے متعلق دائر آئینی پٹیشن کی سماعت کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا۔سماعت سندھ ہائی کورٹ سکھر کے جسٹس امجد علی بوہیو اور جسٹس علی حیدر ادا پر مشتمل دو رکنی آئینی بینچ نے کی۔عدالت نے سماعت کے دوران محکمہ صحت، اسپتال انتظامیہ اور وکلا کے دلائل تفصیل سے سنے۔ اس موقع پر عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جس طرح آرتھوپیڈک وارڈ کی بہتری ضروری ہے اسی طرح سکھر جیسے بڑے شہر میں جدید سہولیات سے آراستہ ٹراما سینٹر کا قیام بھی وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ حادثات اور ایمرجنسی کی صورت میں شہریوں کو بروقت اور بہتر طبی سہولت فراہم کی جا سکے۔پٹیشنر کی جانب سے پیش ہوتے ہوئے بیرسٹر خان عبدالغفار خان نے عدالت سے استدعا کی کہ فیصلے میں عوامی مفاد اور شہریوں کی سہولت کو مدنظر رکھا جائے۔انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ سکھر میں ایک جدید اور فعال آرتھوپیڈک وارڈ کے ساتھ ساتھ جدید ٹراما سینٹر کا قیام انتہائی ضروری ہے تاکہ حادثات میں زخمی ہونے والے مریضوں کو فوری طبی امداد فراہم کی جا سکے۔

بیرسٹر خان عبدالغفار خان نے مزید بتایا کہ عدالت نے اسپتال انتظامیہ اور محکمہ صحت کو پابند کیا ہے کہ آرتھوپیڈک وارڈ اور آپریشن تھیٹرز کی تکمیل کا عمل جلد از جلد مکمل کیا جائے۔ سماعت کے دوران اسپتال انتظامیہ کی جانب سے عدالت میں آرتھوپیڈک وارڈ کی عمارت کو ٹراما سینٹر میں منتقل کرنے سے متعلق پی سی ون اور فزیبلٹی رپورٹ بھی پیش کی گئی۔

اسپتال انتظامیہ نے عدالت کو یقین دہانی کروائی کہ سول اسپتال سکھر میں آرتھوپیڈک وارڈ کو اسٹیٹ آف دی آرٹ سہولیات سے آراستہ کیا جائے گا اور مریضوں کو بہتر طبی سہولتیں فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں گے۔واضح رہے کہ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) کے رہنما لالا اسد پٹھان کی جانب سے سول اسپتال سکھر کے آرتھوپیڈک وارڈ کی خستہ حالی کے خلاف سندھ ہائی کورٹ میں آئینی پٹیشن دائر کی گئی تھی۔

سماعت کے موقع پر پٹیشنر کی جانب سے بیرسٹر خان عبدالغفار خان اور سلیم سھتو عدالت میں پیش ہوئے جبکہ سندھ حکومت کی جانب سے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سندھ علی رضا بلوچ عدالت میں پیش ہوئے۔ سول اسپتال انتظامیہ کی نمائندگی ایڈووکیٹ محفوظ اعوان نے کی۔اسی طرح محکمہ صحت کی جانب سے ڈپٹی سیکریٹری ٹیکنیکل، پرنسپل گمبٹ میڈیکل کالج (جی ایم سی)، میڈیکل سپرنٹنڈنٹ سول اسپتال سکھر، ڈپٹی ڈائریکٹر فنانس سمیت آرتھوپیڈک اور ٹراما شعبے کے ڈاکٹرز بھی عدالت میں پیش ہوئے اور اپنا مؤقف پیش کیا۔عدالت نے تمام فریقین کے دلائل سننے کے بعد کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا ہے، جس کا اعلان بعد میں کیا جائے

مزید خبریں

Back to top button