20 ارب روپے کے سکھر بیراج منصوبے پر سوالات، ناقص مٹیریل اور تکنیکی خامیوں کے الزامات

سکھر(جانوڈاٹ پی کے) تقریباً 20 ارب روپے کی لاگت سے جاری سکھر بیراج کی مستقل بحالی کے منصوبے پر سنگین سوالات اور الزامات سامنے آئے ہیں۔ منصوبے کے پہلے فیز میں اکتوبر 2024 سے 31 جون 2025 تک بیراج کے 16 گیٹس کی تبدیلی کی گئی، تاہم ذرائع کے مطابق یہ گیٹس ناقص اور ناکارہ مٹیریل سے تیار کیے گئے، جس کے باعث آپریشن میں مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔
ذرائع کے مطابق گیٹس کو اوپر نیچے کرنے کے لیے روایتی چین رولر کے بجائے لوہے کے وہیل نصب کیے گئے ہیں، جو نہ صرف آپریشن کے دوران مسائل کا باعث بن رہے ہیں بلکہ کم مدت میں زنگ آلود بھی ہو چکے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تکنیکی فیصلہ بیراج جیسے حساس انفراسٹرکچر کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
سالانہ مینٹیننس کے دوران بیراج کے گیٹس کو پانی سے اوپر اٹھا کر کمپریسر کے ذریعے پریشر سے دھویا، آئلنگ اور گریسنگ کی جاتی ہے تاکہ گیٹس کی کارکردگی برقرار رہے۔ رواں سال، لیفٹ سائیڈ کے گیٹس کی آئلنگ و گریسنگ اور چاروں کینالوں کے فلٹر بلاکس کی صفائی و مرمت کا کام ایک چینی کمپنی کو سونپا گیا، جبکہ رائیٹ سائیڈ کے کینال اور گیٹس کا کام ایکسیئن سکھر بیراج کی نگرانی میں مقررہ وقت میں مکمل کر لیا گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ لیفٹ سائیڈ پر چینی کمپنی کی جانب سے کیا گیا کام غیر تسلی بخش رہا، اور مبینہ طور پر گیٹس کی تبدیلی کا کام کمپنی خود کرنے کے بجائے تھرڈ پارٹی کے ذریعے کروایا گیا۔ مزید الزامات میں کہا گیا کہ منصوبے میں جعلی یا غیر معیاری کمپنیوں کے ذریعے اربوں روپے کی مالی اور تکنیکی بے ضابطگیاں کی گئی ہیں۔
ان الزامات کے بعد ماہرین، انجینئرنگ حلقوں اور شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ سکھر بیراج جیسے قومی اہمیت کے منصوبے کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں، ذمہ داران کا تعین کیا جائے اور ناقص کام میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ مستقبل میں بیراج اور اس سے وابستہ نہری نظام کو کسی بڑے خطرے سے محفوظ رکھا جا سکے۔



