سکھر: پولیس مبینہ زیادتیوں کے خلاف لکھن برادری کا بچوں سمیت احتجاج، شفاف تحقیقات کا مطالبہ

سکھر(جانوڈاٹ پی کے)سکھر پولیس کی مبینہ زیادتیوں کے خلاف لکھن برادری نے معصوم بچوں سمیت احتجاجی مظاہرہ کیا اور تماچانی تھانے کی پولیس کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔
تفصیلات کے مطابق گاؤں رضا محمد لکھن کے رہائشی لکھن برادری کے افراد نے تماچانی تھانے کی پولیس کے خلاف احتجاج کیا۔ مظاہرین میں پرویز لکھن، محمد پنجل، رضا محمد، محمد رمضان، حبیب اللہ، گلزار احمد، عبدالغفور، علی احمد، امام دین، اکبر علی لکھن سمیت دیگر افراد شامل تھے۔
مظاہرین نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ 12 تاریخ کو سندھڑی ہوٹل کے باہر کھوسہ برادری کے ایک نوجوان کے قتل کے بعد پولیس نے بڑی نفری کے ساتھ ان کے گاؤں پر چھاپہ مارا اور پانچ افراد کو گرفتار کر لیا۔ مظاہرین کے مطابق پولیس اس کارروائی کے دوران 36 بھینسیں، 5 بھیڑیں، 5 گائیں، 4 لاکھ 60 ہزار روپے نقد، 4 تولہ سونا، ایک پستول، ایک ریپیٹر بمعہ لائسنس اور گھریلو سامان بھی اپنے ساتھ لے گئی۔
احتجاج کرنے والوں کا کہنا تھا کہ پولیس نے دعویٰ کیا کہ یہ کارروائی کھوسہ برادری کی درخواست پر کی گئی، تاہم جب وہ کھوسہ برادری کے پاس گئے تو انہوں نے اس کارروائی سے لاتعلقی ظاہر کر دی۔ مظاہرین کے مطابق اس کے باوجود پولیس نے ایک بار پھر ان کے گاؤں پر چڑھائی کی اور خاتون مائی سمینہ کو تین معصوم بچوں سمیت گرفتار کر لیا۔
لکھن برادری نے مزید الزام عائد کیا کہ پہلے سے گرفتار افراد علی دین لکھن، قربان علی لکھن اور ظہیر احمد لکھن پر پولیس مقابلے کا جھوٹا مقدمہ بھی درج کیا گیا ہے۔ مظاہرین نے سوال اٹھایا کہ اگر وہ بے گناہ ہیں تو ان کے ساتھ اس قدر ناانصافی کیوں کی جا رہی ہے۔
احتجاج کرنے والوں نے آئی جی سندھ، ڈی آئی جی سکھر اور ایس ایس پی سکھر سے مطالبہ کیا کہ واقعے کی شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات کرائی جائیں۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ اگر ان کے افراد قتل کے واقعے میں ملوث ہیں تو انہیں قانون کے مطابق سزا دی جائے، تاہم اگر وہ بے گناہ ہیں تو عورتوں اور معصوم بچوں سمیت تمام گرفتار افراد کو فوری رہا کیا جائے، جھوٹے مقدمات ختم کیے جائیں اور انہیں انصاف فراہم کیا جائے۔



