صالح پٹ: شنمبانی برادری کا پریس کلب کے سامنے احتجاج، نوجوان کے قتل اور الٹا مقدمہ درج کرنے پر انصاف کا مطالبہ

سکھر (جانوڈاٹ پی کے)سکھر کے علاقے صالح پٹ کے گاؤں دولت شاہ کے رہائشی شنمبانی برادری سے تعلق رکھنے والے مرد و خواتین نے اپنے ہی بااثر برادری کے افراد کی جانب سے نوجوان کے بے دردی سے قتل اور بعد ازاں پولیس کی جانب سے مظاہرین پر مقدمہ درج کیے جانے کے خلاف سکھر پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا۔مظاہرین میں عزیز اللہ شنمبانی، بھٹائی ڈنو، مالک ڈنو، کریماں خاتون سمیت دیگر افراد شامل تھے۔مظاہرین نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ چار روز قبل ان کے نوجوان بھائی عبدالمجید شنمبانی کو بااثر جوابدار غلام نبی شنمبانی، ارشاد شنمبانی، یعقوب شنمبانی اور محمد نواز نے پسٹل کے فائر کر کے بے دردی سے قتل کر دیا۔ واقعے کے بعد پولیس نے دو ملزمان غلام نبی اور ارشاد کو گرفتار کر لیا، تاہم دیگر نامزد ملزمان تاحال فرار ہیں۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ فرار ملزمان کی گرفتاری کے لیے صالح پٹ تھانے کے سامنے احتجاج کیا گیا تو پولیس نے انصاف فراہم کرنے کے بجائے الٹا مظاہرین پر ہی مقدمہ درج کر دیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پولیس بعض ملزمان کے ساتھ ملی بھگت کر کے انہیں دھمکا رہی ہے، جبکہ جوابداروں کی جانب سے بھی مقدمہ واپس لینے اور جان لیوا دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔احتجاجی مظاہرین نے چیف جسٹس آف پاکستان، وزیرِاعلیٰ سندھ، آئی جی سندھ، ڈی آئی جی سکھر اور ایس ایس پی سکھر سے پرزور مطالبہ کیا کہ قتل میں ملوث تمام ملزمان کو فوری گرفتار کر کے قانون کے مطابق قرار واقعی سزا دی جائے،مظاہرین پر بلاجواز درج کیا گیا مقدمہ ختم کیا جائے، اور اس کارروائی میں ملوث پولیس افسران و اہلکاروں کے خلاف محکمہ جاتی کارروائی عمل میں لائی جائے۔انہوں نے مزید مطالبہ کیا کہ واقعے کی صاف و شفاف انکوائری کر کے متاثرہ خاندان کو تحفظ اور انصاف فراہم کیا جائے، بصورت دیگر احتجاج کا دائرہ وسیع کیا جائے گا۔



