سکھر کا تاریخ ساز صحافتی کنونشن آزادیٔ صحافت کے تحفظ کی متحد اور فیصلہ کن آواز

تحریر:مجاہد بوزدار
سکھر پریس کلب میں پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) کے زیرِاہتمام اور سکھر یونین آف جرنلسٹس کی میزبانی میں منعقد ہونے والا میڈیا لاز،ریگولیشنز اینڈ ایتھکس کے عنوان سے سندھ ریجنل جرنلسٹس کنونشن بلاشبہ پاکستان کی صحافتی تاریخ کا ایک تاریخ ساز بھرپور اور کامیاب اجتماع ثابت ہوا اس کنونشن نے آزادیٔ صحافت،صحافتی اخلاقیات صحافیوں کے تحفظ اور آئینی حقوق کے حوالے سے نہ صرف سنجیدہ اور بامقصد مکالمے کو فروغ دیا بلکہ ایک واضح متحد اور باوقار قومی مؤقف بھی سامنے لایا جو جمہوری اقدار کے استحکام کے لیے نہایت اہم ہے اس کنونشن کی سب سے نمایاں خصوصیت سکھر ریجن بھر سے صحافیوں کی ریکارڈ تعداد میں شرکت تھی ایک ہزار سے زائد صحافیوں جن میں خواتین صحافیوں کی بڑی تعداد بھی شامل تھی نے سکھر پریس کلب کو صحافیوں کے اتحاد شعور اور جرات کا مرکز بنا دیا سکھر ریجن کے مختلف شہروں سے قافلوں کی صورت میں آنے والے صحافیوں کے علاوہ سیاسی جماعتوں کے نمائندگان سول سوسائٹی اور وکلا برادری کی موجودگی نے اس کنونشن کو محض ایک صحافتی تقریب نہیں بلکہ قومی سطح کا فکری اور جمہوری اجتماع بنا دیا کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے پی ایف یو جے کے مرکزی صدر افضل بٹ،پی ایف یو جے کے مرکزی سیکریٹری فنانس لالا اسد پٹھان،سابق سیکریٹری جنرل ناصر زیدی اور دیگر مرکزی و علاقائی قائدین نے بھی اپنے خطابات میں نہایت مدلل اور جرات مندانہ انداز میں آزادیٔ صحافت کو درپیش سنگین خطرات کا جائزہ پیش کیا انہوں نے کہا کہ مختلف ادوار میں صحافت کو دبانے کے لیے قوانین دباؤ اور ہتھکنڈے آزمائے گئے مگر تاریخ گواہ ہے کہ صحافی کبھی خاموش نہیں ہوئے انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ پیکا ایکٹ سمیت وہ تمام قوانین جن کے ذریعے سچ بولنے والوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے آزادیٔ اظہار اور عوام کے حقِ جاننے پر براہِ راست حملہ ہیں افضل بٹ نے اعلان کیا کہ پی ایف یو جے ملک بھر میں منعقد ہونے والے جرنلسٹس کنونشنز کی سفارشات کی روشنی میں ایک جامع ڈرافٹ تیار کرے گی جس میں پیکا سمیت اظہارِ رائے اور آزادیٔ صحافت کے خلاف آئینِ پاکستان سے متصادم شقوں کی واضح نشاندہی کی جائے گی یہ ڈرافٹ حکومت کو دیا جائے گا اور سیاسی جماعتوں کی حمایت سے پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا انہوں نے خبردار کیا کہ اگر میڈیا اور آزادیٔ اظہار کے منافی شقوں پر نظرثانی نہ کی گئی تو پی ایف یو جے ملک گیر سطح پر ایک بھرپور منظم اور فیصلہ کن تحریک چلانے پر مجبور ہوگی نے اپنے جامع خطاب میں کہا کہ ہمیشہ آزادیٔ صحافت کے ساتھ ساتھ صحافیوں کے معاشی تحفظ، پیشہ ورانہ وقار اور جان و مال کے تحفظ کے لیے بھی عملی جدوجہد کی ہے انہوں نے کہا کہ صحافیوں کو معاشی عدم تحفظ کا شکار بنا کر ان کی آواز دبانے کی کوششیں دراصل آزادیٔ صحافت پر ایک بالواسطہ مگر خطرناک حملہ ہیں لالا اسد پٹھان نے واضح کیا کہ پی ایف یو جے پیکا قانون سمیت میڈیا پر قدغن لگانے والے کسی بھی قانون کو من و عن تسلیم نہیں کرے گی اور ہر اس پالیسی کی مخالفت کی جائے گی جو صحافت کو خوف دباؤ یا مجبوری کے تحت چلانے کی کوشش کرے انہوں نے اعلان کیا کہ اسلام آباد میں پی ایف یو جے کا مرکزی کنونشن منعقد کیا جائے گا جہاں ملک بھر سے صحافی قیادت شرکت کرے گی اور متفقہ سفارشات پیش کی جائیں گی ان کا کہنا تھا کہ اگر حکمرانوں نے ہوش کے ناخن نہ لیے تو پھر یہ جدوجہد دمادم مست قلندر کی صورت اختیار کر سکتی ہے صحافتی اخلاقیات اور آزادیٔ صحافت کو ایک دوسرے سے جدا نہیں کیا جا سکتا ان رہنماؤں نے کہا کہ ذمہ دار صحافت اسی وقت ممکن ہے جب صحافی آزاد فضا میں بلا خوف و دباؤ کام کریں انہوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ آزادیٔ صحافت دراصل عوامی مفاد کے تحفظ کا نام ہے کیونکہ آزاد صحافت ہی ریاست اور معاشرے کے درمیان ایک شفاف پل کا کردار ادا کرتی ہے یہ کنونشن پی ایف یو جے کی طویل مسلسل اور تابناک جدوجہد کی عملی تصویر تھا یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس نے ہمیشہ صحافت کے علم کو بلند رکھا قلم کی حرمت کا دفاع کیا اور صحافیوں کے خلاف بنائے جانے والے کالے قوانین کے خلاف تاریخی تحریکیں چلائیں اس جدوجہد میں صحافیوں نے کوڑے کھائے جیلیں کاٹیں سزائیں برداشت کیں جھوٹے مقدمات کا سامنا کیا اور بعض نے اپنی جانوں کا نذرانہ بھی پیش کیا مگر نہ حوصلے ٹوٹے اور نہ قلم جھکا سکھر پریس کلب کا آنگن اس روز صحافیوں کے اتحاد اور بیداری کی ایک زندہ تصویر تھا۔ فلک شگاف نعروں،قائدین کے والہانہ استقبال،بینرز اور پینا فلیکس سے سجی فضا اس امر کی عکاس تھی کہ صحافتی برادری اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے متحد اور منظم ہے اپنی تنظیم شرکت اور پیغام کے اعتبار سے یہ کنونشن ہر لحاظ سے مکمل کامیاب رہا اور اس نے ثابت کیا کہ پی ایف یو جے آج بھی صحافیوں کی سب سے مضبوط، متحرک اور مؤثر نمائندہ تنظیم ہے آخر میں یہ کنونشن اس عزم کی تجدید تھا کہ صحافت پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اگر آزادیٔ صحافت، قلم کی حرمت اور صحافیوں کے آئینی حقوق کو نظرانداز کیا گیا تو پی ایف یو جے اپنے منشور کے مطابق آئینی اور جمہوری حدود میں رہتے ہوئے ماضی سے بھی زیادہ مؤثر اور فیصلہ کن ردِعمل دینے کا حق محفوظ رکھتی ہے سکھر کا یہ تاریخ ساز کنونشن اس پیغام کے ساتھ اختتام پذیر ہوا کہ پاکستان کا صحافی بیدار ہے منظم ہے اور اپنے پیشہ ورانہ وقار اور سچ کی حفاظت کے لیے ہر سطح پر جدوجہد جاری رکھے گاصحافت جرم نہیں سچ بولنا اور سچ لکھنا ہمارا آئینی حق اور قومی فریضہ ہے اور اس حق کے تحفظ کی آواز اب پہلے سے زیادہ مضبوط اور توانا ہے۔



