بااثر افراد کے مبینہ قبضے کیخلاف قٹٹو برادری کا سکھر پریس کلب کے سامنے احتجاج

سکھر (بیورورپورٹ)سکھر پنوعاقل کے گاؤں علی بخش قٹٹو کے رہائشی، قٹٹو برادری سے تعلق رکھنے والے مرد و خواتین نے اپنی زرعی زمین پر بااثر افراد کی جانب سے مبینہ غیرقانونی قبضے کے خلاف سکھر پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے انصاف کی فراہمی کے حق میں نعرے لگائے۔تفصیلات کے مطابق احتجاجی مظاہرے میں شامل نادر علی، غلام نبی، شمس الدین، مائی زیبول، مائی بسراں، مسمات شہزادی و دیگر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ علاقے کے بااثر ریٹائرڈ ڈی ایس پی لیاقت علی عباسی نے ایک سال قبل ان کے والد کی ملکیتی زمین، جو کہ تقریباً 8 ایکڑ پر مشتمل ہے، بلاجواز طور پر قبضے میں لے لی۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ زمین کا کھاتہ ان کے والد کے نام پر موجود ہے اور اس حوالے سے تمام قانونی دستاویزات بھی دستیاب ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس غیرقانونی قبضے کے خلاف انہوں نے تھانہ سانگی میں باقاعدہ رپورٹ درج کروائی، تاہم پولیس کی جانب سے مدد فراہم کرنے کے بجائے انہیں الٹا دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔احتجاج میں شامل افراد نے مزید الزام لگایا کہ گزشتہ روز لیاقت علی عباسی اور اس کے ساتھ موجود چھ نامعلوم مسلح افراد نے اسلحے کے زور پر ان پر اور ان کے اہلِ خانہ پر حملہ کیا، جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں اور تشدد کا نشانہ بنایا، جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔مظاہرین نے چیف جسٹس آف پاکستان، وزیرِاعلیٰ سندھ، آئی جی سندھ، ڈی آئی جی سکھر اور ایس ایس پی سکھر سے پرزور مطالبہ کیا کہ فوری طور پر ان کی زمین سے ناجائز قبضہ ختم کروایا جائے، ملزم لیاقت علی عباسی کے خلاف قانونی کارروائی کرتے ہوئے اسے گرفتار کیا جائے اور متاثرہ خاندان کو جان و مال کا تحفظ اور انصاف فراہم کیا جائے۔
مظاہرین نے خبردار کیا کہ اگر انہیں انصاف نہ ملا تو وہ اپنا احتجاجی دائرہ وسیع کرنے پر مجبور ہوں گے، جس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ حکام پر عائد ہوگی۔



