کراچی میں عوام نے ہمیں جوش و جذبے کیساتھ ویلکم کیا، پنجاب نےجو سلوک کیا وہ قابل مذمت ہے،سہیل آفریدی

کراچی (جانوڈاٹ پی کے) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ نئی منتخب ارکان کو مبارکباد پیش کرتا ہوں، کراچی کی عوام نے ہمیں جوش و جذبے کے ساتھ ویلکم کیا، بڑی تعداد میں عوام استقبال کیلئے آئے،اس لئے پریس کلب پہنچنے میں تاخیر ہوئی ۔
کراچی پریس کلب میں خطاب کرتے ہوئے سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ ان کے قائد عمران خان نے انہیں اسٹریٹ موومنٹ کی ذمہ داری دی ہے اور اسی مقصد کے تحت انہوں نے پنجاب سمیت مختلف علاقوں کے دورے کیے۔
وزیراعلیٰ کے پی نے کہا کہ پنجاب میں تحریک انصاف کے پارلیمنٹرینز کے ساتھ جو سلوک کیا گیا وہ قابل مذمت ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ وہ مختلف اضلاع کا دورہ کریں گے جبکہ کراچی میں جناح گراؤنڈ پر جلسے کے لیے درخواست دی جا چکی ہے، سندھ حکومت نے زبانی اجازت دی ہے تاہم تاحال تحریری نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوا۔
سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ پاکستان میں طاقتور اور امیر کے لیے الگ قانون ہے جبکہ غریب کے لیے الگ، اسی تحریک کے تحت لوگوں کو جیلوں میں ڈالا گیا، حتیٰ کہ ان کے قائد عمران خان کی اہلیہ بھی ناحق قید میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قید میں بھی انسانی حقوق ہوتے ہیں مگر عمران خان کی بہنوں کو ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی اور انہیں دہشت گردوں کی جگہ پر تنہائی میں رکھا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان پاکستان کے مقبول ترین لیڈر ہیں جن کی حکومت کو غیر آئینی طریقے سے ختم کیا گیا اور عوام کے مینڈیٹ پر بدترین ڈاکا ڈالا گیا۔ ہماری جنگ کسی ایک فرد یا جماعت کی نہیں بلکہ پوری قوم کی جنگ ہے۔ انہوں نے شہید صحافی ارشد شریف کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ صحافیوں کے ساتھ ہونے والا سلوک سب کے سامنے ہے۔
وزیراعلیٰ کے پی نے کہا کہ پورے پاکستان میں اس وقت صرف خیبر پختونخوا کی حکومت حقیقی عوامی مینڈیٹ کے ساتھ قائم ہے جبکہ باقی صوبوں میں جعلی مینڈیٹ کی حکومتیں مسلط ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کے پی میں تیسری بار عوام نے تحریک انصاف کو اقتدار دیا ہے اور کوئی قانون اس بات کی ممانعت نہیں کرتا کہ ایک صوبے کا وزیر اعلیٰ دوسرے صوبے کا دورہ نہ کرے۔
امن و امان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ صوبائی اسمبلی میں منعقد کیے گئے امن جرگے میں تمام مکاتب فکر اور سیاسی جماعتوں نے شرکت کی اور متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ ملٹری آپریشن کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ کھلی بدمعاشی کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات ہونے چاہئیں مگر وہ لیول پلینگ فیلڈ کی بنیاد پر ہوں۔
این ایف سی ایوارڈ سے متعلق بات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ کے پی نے کہا کہ وفاق پر خیبر پختونخوا کا 4758 ارب روپے واجب الادا ہے، آئین کے مطابق این ایف سی شیئر چاروں صوبوں میں تقسیم ہونا چاہیے مگر 2018 سے 2025 تک خیبر پختونخوا کو اس کا حق نہیں دیا گیا۔ سندھ حکومت نے این ایف سی پر تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ پنجاب میں 100 ارب اور وفاق میں 5300 ارب روپے کی کرپشن ہوئی ہے جبکہ خیبر پختونخوا کے ساتھ ہمیشہ سوتیلی ماں جیسا سلوک روا رکھا گیا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف خیبر پختونخوا کے عوام نے 80 ہزار سے زائد قربانیاں دی ہیں، پولیس، ایف سی اور عام شہری شہید ہوئے، 2018 کے بعد ہماری حکومت آنے سے امن بحال ہوا تھا۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ ہم ہر قسم کی دہشت گردی کے خلاف ہیں اور جو دہشت گردوں کو لا کر آباد کرتے ہیں ہم ان کے بھی خلاف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جمہوری حکومت جو عوام کے ووٹ سے آئے، مسائل کا حل صرف ڈائیلاگ کے ذریعے ممکن ہے۔ ہم 8 فروری کی تیاری کر رہے ہیں جبکہ مذاکرات کا مینڈیٹ راجہ ناصر عباس اور محمود اچکزئی کو دیا گیا ہے۔
آخر میں وزیراعلیٰ کے پی نے کہا کہ کراچی میں بہتری نظر آ رہی ہے ، صحافی اور تحریک انصاف کا رشتہ چولی دامن کا ہے اور آزادی اظہار کی جدوجہد ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔



