نجی یونیورسٹی میں طالبہ کی خودکشی کی کوشش:سی سی ٹی وی فوٹیج کے بعد تحقیقات کا دائرہ وسیع

لاہور (جانوڈاٹ پی کے)نجی یونیورسٹی میں طالبہ کی خودکشی کی کوشش کے معاملے پر پولیس نے تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے، تاہم تاحال طالبہ کے لواحقین کی جانب سے کسی قسم کی قانونی کارروائی کے لیے درخواست جمع نہیں کروائی گئی۔

ذرائع  کے مطابق پولیس کا کہنا ہے کہ متاثرہ طالبہ اس وقت اسپتال میں زیر علاج ہے اور اس کی ریڑھ کی ہڈی اور پھیپھڑوں پر گہرے زخم آئے ہیں، جس کے باعث اس کا بیان ریکارڈ نہیں کیا جا سکا۔

پولیس کے مطابق طالبہ فاطمہ کے تمام ضروری طبی ٹیسٹ دوبارہ کیے گئے ہیں جبکہ اہل خانہ سے مختلف پہلوؤں پر معلومات حاصل کی جا رہی ہیں۔ واقعے کی مکمل تفصیل جاننے کے لیے یونیورسٹی اور اطراف میں نصب تمام سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج تحویل میں لے لی گئی ہے، جن کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔

پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر تحقیقات کے دوران کسی قسم کی غفلت یا لاپروائی ثابت ہوئی تو یونیورسٹی انتظامیہ کے خلاف بھی قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

پولیس حکام کے مطابق طالبہ کے بیان کے بعد ہی تفتیش کو اگلے مرحلے میں داخل کیا جائے گا، تاہم ابتدائی تحقیقات میں معاملہ گھریلو نوعیت کا معلوم ہوتا ہے۔ تمام شواہد اور بیانات کی روشنی میں حتمی نتیجہ اخذ کیا جائے گا۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز لاہور کی ایک نجی یونیورسٹی میں ڈی فارم کی طالبہ 21 سالہ فاطمہ نے بلڈنگ کی دوسری منزل سے کود کر خودکشی کی کوشش کی تھی، جس کے بعد اسے تشویشناک حالت میں پہلے یونیورسٹی اسپتال اور بعد ازاں جنرل اسپتال منتقل کیا گیا۔

واضح رہے کہ چند روز قبل اسی یونیورسٹی میں ڈی فارم کے ایک طالب علم نے بلڈنگ کی چوتھی منزل سے کود کر اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا تھا۔

مزید خبریں

Back to top button