حضورغوث اعظم رضی اللہ عنہ امن ومحبت اورپیارکے پرچارکے پیکرتھے، علامہ نعیم الرحمن ہزاروی

وزیرآباد(جانوڈاٹ پی کے) حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہ جنہیں غو ث اعظم کے لقب سے جانا جاتا ہے آپ رضی اللہ عنہ 470ہجری میں پیدا ہوئے آپ رضی اللہ عنہ کا سلسلہ نسب والد کی طرف سے سید نا حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ اور والدہ کی طرف سے حضرت امام  حسین رضی اللہ عنہ سے ملتا ہے اس لئے آپ حسنی حسینی سید ہیں،حضور پُرنور ابو محمدسیِّد شیخ عبدالقادر حَسنی حُسینی جیلانی رضی اللہ عنہ کو اللہ تعالیٰ نے علمِ فقہ میں بھی بڑی مہارت عطا فرمائی تھی آپ رضی اللہ عنہ بلامبالغہ اپنے زمانے کے مفتیِ اعظم تھے ا ور فنِ افتاء میں آپ رضی اللہ عنہ اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے۔ان خیالات کا اظہار معروف عالم دین علامہ محمد نعیم الرحمن ہزاروی نے ادارہ فیضان شہ کونین صلی اللہ علیہ وسلم کے زیر اہتمام حضور غو ث اعظم شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہ کے ختم پاک کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ نے اسلا م کی تعلیمات کواس اصلاحی آسان اندازمیں غیرمسلموں کے سامنے رکھیں کہ غیرمسلم جوق درجوق اسلا م کی آغوش میں آنے لگے اورانکی محنتوں کاثمرہے کہ آج بھی دنیاکے کونے کونے میں اسلا م کے نام لیوااورنبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم پرجان نثارکرنے والوں اوراسلا می تعلیمات کے پیاسوں کی تعدادد ن بد ن بڑھ رہی ہے، حضورغوث اعظم رضی اللہ عنہ امن ومحبت اورپیارکے پرچارکے پیکرتھے انہوں نے اپنی تعلیمات اوردین اسلام کی اشاعت میں نبی رحمت دوجہاں صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کی جومثال پیش کی اہلسنت کاہرفرداس کی چھاپ لئے ہوئے ہیں کیونکہ اہلسنت مکتبہ فکراولیاء کرام کے فیوض وبرکات کے قائل ہیں،سید نا حضورغوث اعظم شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہ کا وصال11ربیع الآخر ۵۶۱ھ بغداد شریف میں ہوا وہیں آپ کامزارِ مبارک، مرجعِ خلائق ہے۔

مزید خبریں

Back to top button