خیبر پختونخوا کیساتھ امتیازی اور سوتیلی ماں جیسا سلوک ہو رہا ہے، سہیل آفریدی

پشاور(جانوڈاٹ پی کے)خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت اور اسمبلی کی اجازت کے بغیر خیبرپختونخوا میں ملٹری آپریشنز مسلط کیے جارہے ہیں اور وفاق متاثرین کی اعلان کردہ مالی تعاون بھی نہیں کر رہا ہے۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے صوبائی کابینہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت عمران خان اور بشریٰ بی بی کو تنہائی میں رکھنے اور ملاقاتوں سے روکنے کی شدید مذمت کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان کو 90 دن سے زائد تنہائی میں رکھا جا رہا ہے، فیملی اور دوستوں سے ملاقات نہیں کروائی جا رہی ہے، بشریٰ بی بی کو بھی تنہائی میں رکھا گیا ہے اور ان کی فیملی سے ملاقات کی اجازت نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو سردی کا سامان فراہم نہ کرنا ظلم ہے، جعلی حکومت آمریت کے تمام ریکارڈ توڑ رہی ہے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے ساتھ امتیازی اور سوتیلی ماں جیسا سلوک ہو رہا ہے، ایکشن ان ایڈ آف سول پاور واپس لینے کا فیصلہ ہو چکا ہے، وفاق کی جانب سے دہشت گردوں کی حراستی مراکز کی تفصیلات نہ ملنے کے باعث واپس لینے کے عمل میں تاخیر ہو رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گرد قیدیوں کی تفصیلات نہ ملنے پر ایکشن ان ایڈ آف سول پاور واپسی سے سیکیورٹی خدشات پیدا ہو سکتے ہیں۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ وفاق کی جانب سے انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت سیاسی جماعتوں کو کالعدم قرار دینا غلط ہے اور شیڈول فور میں شامل سیاسی کارکنان کی فہرست ری وزٹ کر کے ریلیف دینے کی ہدایت کردی۔
ان کا کہنا تھا کہ وفاق کی جانب سے نادرن بائی پاس منصوبہ 2010 سے تاخیر کا شکار ہے، لاگت 3 ارب سے 31 ارب روپے تک پہنچ گئی ہے، صوبائی حکومت نے 5 ارب روپے دے کر منصوبہ تیز کیا۔
انہوں نے کہا کہ 8 فروری انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کے لیے صوبائی اسمبلی میں اسپیشل کمیٹی قائم کر رہے ہیں، صوبائی ملازمین کو طلب کر کے انتخابی دھاندلی پر پوچھ گچھ کی جائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی فورسز ہمارے محافظ ہیں، گلہ اپنوں سے ہوتا ہے، ایک طرف سے دہشت گرد مارتے ہیں تو دوسری طرف سے کولیٹرل ڈیمیج میں سویلین شہادتیں ہوتی ہیں، ڈرون اور فضائی حملوں میں شہریوں کی شہادتوں پر قانون سازی کی ضرورت ہے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ وفاق ٹی ڈی پیز کے لیے وعدہ شدہ فنڈز نہیں دے رہا، صوبائی حکومت اب تک 7.5 ارب روپے اپنی جیب سے خرچ کر چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ آپریشنزکے اعلان کے بعد خیبر پختونخوا کے لوگوں کو بے گھر کر کے صوبے کے ذمہ چھوڑ دیا ہے جس سے صوبائی وسائل پر بھاری مالی بوجھ پڑ رہا ہے اور اب تک صوبے کے 10 ارب روپے خرچ ہو چکے ہیں، مزید 100 ارب روپے نقصان کا خدشہ ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بند کمروں کے فیصلوں سے جی ڈی پی 6.1 فیصد سے 3-2 فیصد تک گر گئی ہے، قرضے 43 ہزار ارب سے بڑھ کر 80 ہزار ارب روپے ہو گئے ہیں، بے روزگاری اور مہنگائی کے باعث نوجوان ملک چھوڑ رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں ملٹری آپریشنز صوبائی اسمبلی اور صوبائی حکومت کی اجازت کے بغیر مسلط کیے جا رہے ہیں، تمام اسٹیک ہولڈرز، قبائلی مشران اور سیاسی و مذہبی قیادت کو بٹھایا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ 22 بڑے آپریشنز اور 14 ہزار انٹیلیجنس آپریشنز کے باوجود دہشت گردی ختم نہیں ہوئی۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ ریڈیو پاکستان واقعہ پی ٹی آئی کے خلاف سازش تھا، ریڈیو پاکستان واقعے کی تحقیقات کے لیے صوبائی اسمبلی کی اسپیشل کمیٹی قائم کر دی گئی ہے جس کا ایک اجلاس ہو چکا ہے۔



