کے پی میں مجوزہ آپریشن بدمعاشی ہے، ہم آخری سانس تک مزاحمت کریں گے، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی

اسلام آباد (جانوڈاٹ پی کے) وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ کے پی کے میں آپریشن کی تیاری ہو رہی ہے جو سراسر بدمعاشی ہے، پاکستان جس نہج پر پہنچ چکا ہے اس کے بعد تباہی کے سوا کچھ نہیں۔

اسلام آباد بار کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ خیبر پختونخوا کی تمام مذہبی اور سیاسی جماعتوں کو اکٹھا کیا گیا، جنہوں نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ ملٹری آپریشن نہیں ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ہم مزاحمت کر رہے ہیں اور آخری سانس تک مقابلہ کریں گے، جس طرح آج پی ٹی آئی ڈٹی ہوئی ہے کوئی اور سیاسی جماعت اس طرح کھڑی نہیں ہو سکی۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ ایمان مزاری کا نام اس لیے لیا کیونکہ مزاحمت کے اس دور میں بہنوں نے نئی تاریخ رقم کی ہے، سندھ، پنجاب اور بلوچستان کی بہنوں کی جدوجہد دیکھ کر حوصلہ ملتا ہے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ اگر آج مجھ پر مشکل وقت ہے تو کل آپ پر بھی آئے گا، آگ سب کے گھروں تک پہنچے گی، اگر آج آواز نہ اٹھائی تو کل سب کی باری آئے گی۔

انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو اللہ نے سب کچھ دیا ہے، وہ کسی چیز کے محتاج نہیں، بانی پی ٹی آئی ہماری جنگ لڑ رہے ہیں اور ان کے ساتھ ہونے والا ظلم و جبر پوری دنیا دیکھ رہی ہے۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے سیکیورٹی تھریٹ کے باوجود عدالتوں میں پیش ہو کر آئین کی بالادستی کا ثبوت دیا، آئین کی سربلندی کے لیے جان چلی جائے تو کوئی پروا نہیں۔ اگر آج ہم نہ کھڑے ہوئے تو کل ہماری نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔

انہوں نے کہا کہ توشہ خانہ سے گاڑیاں لینے والے اقتدار میں ہیں جبکہ قانونی طریقے سے چیز لینے والا جیل میں ہے، ہمیں بانی پی ٹی آئی کا ساتھ دینا ہوگا اور 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کے خلاف کھڑا ہونا ہوگا۔ وکلاء تحریک کا اعلان کریں، پاکستان کا ہر نوجوان ان کے ساتھ ہوگا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ریاست علی آزاد نے کہا کہ وکلاء نے ہمیشہ سچ اور آئین کا ساتھ دیا ہے، بکنے والے لوگ بار کی قیادت نہیں کر سکتے، گھروں سے لوگوں کو اٹھانے پر خاموش رہنے والوں کو شرم آنی چاہیے۔

ترجمان بانی پی ٹی آئی نیاز اللہ نیازی نے کہا کہ وکلاء کو دبایا جا رہا ہے، آئین کو ختم اور وکلاء کی آزادی کو تہس نہس کر دیا گیا ہے، اگر آئین اور قانون کی بات کرنا جرم ہے تو ہم یہ جرم بار بار کریں گے۔

مزید خبریں

Back to top button